خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 237
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۷ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمُ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ : تو یہاں صبر کے معنے نہی کے آتے ہیں ویسے صبر کے معنے رک جانے کے بھی آتے ہیں لیکن اس کے معنے اور بھی ہیں اس کے معنے مصائب پر واویلا نہ کرنے کے بھی ہیں۔اس کے معنے نیکیوں پر ثبات قدم دکھانے کے بھی ہیں۔اس کے معنے بدی سے رُک جانے کے بھی ہیں چونکہ دوسری آیت میں اوامر کا ذکر ہے یعنی جو کرنے والی باتیں ہیں اس واسطے پہلی آیت میں ہم مجبور ہیں کہ اس کے یہ معنی کریں کہ یہاں نواہی کا ذکر ہے۔تو صبروا کے معنے ہیں کہ وہ فور اٹک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بدیوں سے تم رکو گے تب بھی تمہیں جزا ملے گی اور نیکیوں کو کرو گے تب بھی تم کو جزا ملے گی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اپنی اس صفت کو مضبوط کرو اور اس خلق پر مضبوطی سے قائم رہو کہ جب بھی تمہیں کسی بُری چیز سے روکا جائے تو فور ارک جاؤ صحابہ کی زندگی میں اس کی ایک مثال ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ابھی شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔اس سے روکا نہیں گیا تھا اس لئے بڑے بڑے بزرگ صحابہ میں سے بھی بعض (سارے نہیں) شراب پیا کرتے تھے اور انہیں اس کی عادت تھی لیکن اس عادت کے باوجود ایک دن ہوا کہ یوں ابوعبیدہ بن الجراح اور ابو طلحہ اور ابی بن کعب شراب پی رہے تھے اور حضرت انس انہیں شراب پلا رہے تھے۔آپ جانتے تھے کہ شراب پی کر عقل بہک جاتی ہے۔شراب سے عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں لیکن اس حالت میں کہ وہ شراب کی مدہوشی میں تھے ان کے کانوں میں یہ آواز آئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شراب ممنوع قرار دے دی گئی اس وقت گو عقل نیم مردہ تھی لیکن اسلام کی روح اور زندگی بیدار تھی۔اس لئے انہوں نے اس وقت یہ نہیں سوچا کہ پہلے جا کر پتہ کر لیں کہ یہ حکم نازل بھی ہوا ہے یا نہیں بلکہ انہوں نے اس شخص کو جو شراب کے پیمانے ہاتھ میں لئے ان کی طرف آرہا تھا کہا کہ انس جاؤ اور ان مشکوں کو توڑ دو۔خدا نے شراب حرام کر دی ہے(بخاری کتاب الاشربة بابنزم تحريم الخمر ) غرض اس قسم کی اطاعت ہے جس کا اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس واقعہ کے متعلق یوں یہ تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار اور مطیع فرمان تھے کہ کسی نبی کے شاگردوں میں ایسی نظیر نہیں ملتی ہے اور خدا کے احکام پر ایسے قائم تھے کہ قرآن شریف ان کی تعریفوں