خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 12
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطا۔شعبہ جات قائم کئے اس نظام میں خلیفہ وقت سارتی جماعت بحیثیت مجموعی وہ تنظیمیں اور ان کے شعبے جنہیں خلیفہ وقت قائم کرتا ہے شامل ہیں۔خلیفہ وقت کا کام نیابت ماموریت اور نبوت کا ہے اور انبیاء اور مامورین کے کام جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں وہ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفوس ہیں جیسے فرمایا يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَ كَيْهِمْ (البقرة : ١٣٠) یعنی ۱۳۰) مامور اور نبی اپنی جماعت کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور ان کا تزکیہ نفوس کرتا ہے اور یہی کام ان کے بعد ان کی نیابت میں ان کے خلفاء کو کرنے پڑتے ہیں اور یہی ان کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ایک جماعتی نظام قائم کیا جاتا ہے اور جہاں تک عزم اور فیصلہ کا تعلق ہے۔اس نظام کی پوری ذمہ داری خلیفہ وقت پر ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری نہایت نازک ہے اور ذمہ داری کے نبھانے میں خلیفہ وقت کو جماعت سے دو بنیادی باتوں کی توقع ہوتی ہے (اول) جماعت کے مخلصانہ مشورے ( دوم ) ان کی دعائیں اور جس طرح مجھ سے پہلے خلفاء جماعت سے ان دو بنیادی باتوں کی توقع رکھتے تھے۔اس طرح میں بھی ان کی توقع رکھتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر خلافت کے اہم کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا پس آپ کے مخلصانہ مشوروں اور پُر سوز دعاؤں کی مجھے بہت ضرورت ہے اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مجھے آپ کی طرف سے ملتی رہیں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔جو نظام الوصیت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جاری فرمایا ہے وہ مندرجہ ذیل شاخوں پر مشتمل ہے۔(۱) اشاعت علوم قرآنیہ (۲) اشاعت کتب دینیہ (۳) ترقی اسلام کے متعلق تجاویز کا سوچنا اور انہیں عملی شکل دینا (۴) واعظین اور مرتیوں کا تیار کرنا (۵) جماعت کو روحانی اور اقتصادی طور پر ایک خاص معیار تک پہنچانا اور پھر اس میعار کو قائم رکھنا۔اس کے ماتحت یتامیٰ اور مساکین کی اعانت بھی آجاتی ہے اور نومسلموں کی تالیف قلب بھی۔ان کا موں کو چلانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیت کا ایک مالی نظام بھی قائم فرمایا ہے جس کے ماتحت ہمیں اپنے مالوں کا کم سے کم سولہواں حصہ جماعت کے خزانہ میں داخل کرانا پڑتا ہے۔جو لوگ بالفعل موصی ہوتے ہیں وہ اپنی آمد کا کم سے کم دسواں حصہ