خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 212
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۲ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب داخل ہوں اور پاک دل اور پاک ارادہ ہو کر آستانہ الوہیت پر گریں اور خدا کی امان کے نیچے جمع ہوں۔وہاں جا کر جو باتیں میں نے ان کو کہیں اور جن پر اخباروں نے نوٹ لکھے۔وہ اخباروں ہی کی زبان میں آپ کو بتا تا ہوں۔سوئٹزر لینڈ کے ایک اخبار نے لکھا کہ میں نے ان کو بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے کہ روس جس کا یہ اعلان ہے کہ وہ خدا کا نام صفحہ زمین سے مٹادے گا بالآ خر حق کی طرف رجوع کرے گا اور وہاں کے رہنے والوں کی اکثریت اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی اور دنیا کے محسن اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے لگے گی۔گو آج یہ بات ناممکن نظر آتی ہے لیکن میرا دل اسے سچا سمجھنے پر مجبور ہے کیونکہ ایسی ہی ناممکن نظر آنے والی باتیں پہلے بھی بتائی گئی تھیں اور وہ پوری ہوگئیں۔ایک اخبار ہٹ فادور لانڈ (Het vadar land ) نے جو نوٹ دیا ہے اس میں ایک فقرہ یہ بھی لکھا کہ میں نے انہیں یہ کہا ہے کہ ” میرے نزدیک دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہی ہوگا“ اسی طرح سوئٹزر لینڈ کا ایک بہت بڑا اخبار ہے اور وہ بڑا ہی متعصب اخبار ہے اور وہ کبھی بھی اسلام کے حق میں نہیں لکھتا تھا بلکہ ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا تھا۔اور جب کبھی ہمارے امام مشتاق احمد ان کو جواباً خط لکھتے تو وہ اسے شائع نہیں کرتا تھا۔جب میں وہاں گیا ہوں تو ان کا خیال تھا کہ غالباً وہ ہماری پر یس کا نفرس میں نہیں آئے گا اور کوئی نوٹ بھی نہیں لکھے گا۔لیکن پریس کانفرس میں ان کا ایک نمائندہ آیا اس نے مجھ سے پریس کانفرنس میں بھی باتیں کیں اور بعد میں بھی مجھ سے قریباً پندرہ بیس منٹ باتیں کرتا رہا۔وہ اپنے ساتھ ایک سٹینوگرافر (شارٹ ہیڈ کی ماہر جو سوئٹزرلینڈ کی رہنے والی ایک نو جوان عورت تھی لے کر آیا تھا۔بعد میں جب اخبار آئی تو پتہ لگا کہ وہ ایک ایک لفظ نوٹ کرتی چلی جاتی تھی بات نہیں کرتی تھی۔بات مرد نمائندہ ہی کرتا تھا۔ہمیں منٹ کے بعد وہ کہنے لگا کہ اب ایک سوال باقی ہے۔اس کا جواب مجھے چاہئے میں نے کہا پوچھو کہنے لگا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کا مقصد کیا تھا۔میں نے اسے کہا کہ میں اپنے الفاظ میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔میں تمہیں بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے الفاظ میں ہی بتاتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس غرض سے مبعوث کیا ہے کہ میں