خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 211
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۱ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار لکھنا نہ لکھنا برابر ہو جا تا لیکن اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ دلوں اور آنکھوں پر ایسا تصرف کیا کہ جو یہ اخبارات لکھ رہے تھے۔پڑھنے والے اس کو پڑھ رہے تھے اور اس کا ہمیں اس طرح پتہ لگتا تھا کہ جب کبھی تھوڑا بہت وقت ملتا تھا اور ہم بازار جاتے تو کوئی شخص بھی ہمیں ایسا نظر نہ آتا تھا جو ہمیں پہچانتا نہ ہو۔سوئٹزرلینڈ میں باہر جانے کا زیادہ اتفاق نہیں ہوا۔ہالینڈ میں بھی نہیں ہوا۔لیکن جہاں ہم باہر گئے ہیں وہاں جو لوگ ہوتے تھے کھڑے ہو جاتے تھے اور ہماری طرف دیکھنے لگ جاتے تھے وہ ہمیں پہچانتے تھے۔دکانوں پر جاتے تو وہ سودا بعد میں دکھاتے تھے پہلے ہماری وہ تصویر ہمارے سامنے رکھ دیتے جو اخبار میں چھپی ہوئی ہوتی تھی اور اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ ہم آپ کو پہچانتے ہیں۔ڈنمارک میں جب کہ میں نے ایک دن عورتوں کی تقریر میں بتایا تھا۔ایک دن میں نے سب کی دعوت کی اور میں ان سب کو پکنک پر لے گیا۔تاہم کچھ دیر تک اکٹھے بیٹھ سکیں اور باتیں کرسکیں۔کیونکہ وہ سب لوگ ( یعنی مقامی احمدی اور باہر سے آئے ہوئے احمدی بھی بہت مصروف رہے تھے۔وہاں خلیفہ کو خلیفن کہتے ہیں۔جو آدمی بھی بلا استثناء ہمارے پاس سے گذرتا تھا اور چند قدم آگے جا کر وہ اپنے ساتھی سے بات کر تا تھا تو یہ خلیفن کا لفظ ضر ور بولتا تھا۔ہمارے دوستوں کو ان کی زبان تو آتی نہیں تھی۔لیکن وہ یہ لفظ سن کر کہتے کہ ہم نے اس سے یہ لفظ سنا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ کو پہچانتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ جو خبریں اخبارات میں شائع ہوں وہ لوگ پڑھیں اور پھر ان خبروں کا ان پر اثر بھی ہو۔دیر بہت ہو گئی ہے مختصر میں ایک واقعہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔امام کمال یوسف نے لکھا ہے کہ ’اب دورے کے بعد حکومت کے تمام ان اداروں میں جہاں وہ سکول کے ٹیچر ز کو ٹریننگ دیتے ہیں جماعت احمد یہ ایک ضروری مضمون قرار دے دیا گیا ہے۔“ یعنی اب وہاں ہر ایک کو یہ مضمون پڑھنا پڑے گا۔جانے سے پہلے میں نے ایک تقریر کی تھی۔جس میں بعض فقرے یہ بھی تھے کہ میرے دل میں درد ہے کہ دنیا کے لئے ایک ہولناک تباہی مقدر ہے اور دنیا کی قومیں اس سے بے خبر ہیں۔میر افرض ہے کہ میں انہیں بتاؤں کہ ان کے لئے ایک عظیم تباہی مقدر ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ اس راستہ کو اختیار کریں جس پر چل کر وہ اس تباہی سے بچ سکتے ہیں۔اور وہ راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کی عافیت بخش آغوش میں آئیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں