خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 185

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۵ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب اور ان گھروں میں بسنے والے ہر دل سے لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کی صدا اور دُنیا ! کی ہر زبان سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا رہے۔آمین یا رب العلمین۔اب میں دُعا کرواؤں گا آپ بھی دُعا میں شامل ہوں۔آج سب سے اہم دُعا جو ہم اپنے رب سے کر سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دُنیا کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے دُنیا تباہی کے گڑھے کے کنارے کھڑی ہے اور نہیں جانتی کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بصیرت اور بصارت عطا کرے وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہنچاننے لگیں اور اس کی محبت ان کے دلوں میں پیدا ہو وہ اپنے کئے پر نادم ہوں اور اپنے رب کی طرف وہ رجوع کریں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جود نیا کے لئے ایک محسنِ اعظم ہیں آپ کے ٹھنڈے سایہ تلے جمع ہو جا ئیں اور نار جہنم سے محفوظ کر لئے جائیں۔خاص طور پر یہ دُعائیں کریں۔آپ سمجھ نہیں سکتے کہ دُنیا اس وقت کس قدر نازک دور سے گزر رہی ہے اللہ تعالیٰ رحم کرے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ فروری ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۴ )