خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 170

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۷۰ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب لکھا ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے پھر میں یہ شرط بھی نہیں لگا تا کہ وہ حدیث صحیح اور سچی ہو تم کوئی وضعی حدیث ہی میرے سامنے لے آؤ۔جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے اس خا کی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اور اگر تم ایسی کوئی حدیث میرے سامنے لے آؤ تو میں تمہیں نہیں ہزار روپیہ بطور تاوان دوں گا۔پھر یہ تو ایک معمولی چیز ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنے عقائد سے بھی تو بہ کرلوں گا اور اپنی تمام کتابوں کو جلا دوں گا۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا انعام ہے جو یہاں پیش کیا گیا ہے لیکن وہ بڑے بڑے عالم جو ظاہری علوم میں ایک حد تک دسترس بھی رکھتے تھے۔ان میں سے کوئی ایک شخص بھی کوئی وضعی حدیث بھی ، جھوٹی حدیث بھی اس دعوت فیصلہ کو قبول کر کے پیش نہ کر سکا اور ان کی اس خاموشی نے اس بات پر ایک مضبوط گواہی دی کہ کوئی ایسی حدیث دنیا میں نہیں پائی جاتی۔اب آج میں ان تمام دوستوں کو جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایک قابل حل مسئلہ ہے۔جو ابھی تک باقی ہے۔یہ کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے ان لوگوں کو جو تمہاری نگاہ میں بڑے ہی عالم اور برگزیدہ اور خدا رسیدہ سمجھے جاتے تھے۔ایک آسان طریق فیصلہ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر تم کوئی وضعی حدیث ہی میرے سامنے رکھ دو گے۔جس میں یہ ذکر ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے اس خا کی جسم کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تو میں تمہیں بیس ہزار روپیہ انعام دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے تو یہ کرلوں گا اور اپنی تمام کتابیں بھی جلا دوں گا۔احمدبیت کو مٹانے کی کسی اور کوشش کی ضرورت نہیں تھی۔انہیں وہ حدیث دھونڈ نی چاہئے تھی اور انہوں نے ضرور ڈھونڈی ہوگی۔آپ کو یا ہمیں ان پر یہ بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔وہ دن اور رات اس بات میں لگے رہے ہوں گے کہ ایسی کوئی حدیث ڈھونڈیں اور پیش کریں لیکن ان کو یہ حدیث نہیں ملی اور نہ ملنی تھی اور پھر انہوں نے بجائے اس کے کہ کھڑے ہو کر حق کا اقرار کرتے خاموشی اختیار کرلی اور ہماری عقل آج یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ان کی خاموشی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی حدیث پیش نہیں کی جاسکتی اور اگر کوئی شخص آج کسی کے متعلق یہ ثابت کر دے کہ کسی نے اس دعوتِ فیصلہ کے بعد کوئی ایسی وضعی حدیث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر دی تھی تو میں اُسے تمہیں ہزار روپیہا انعام دوں گا۔۲۔ایک اور دعوتِ فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو یہ دی ہے کہ