خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 139
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۹ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب جاتا ہے اور دوسرے دعا میں اس قسم کا تضرع اور ابتہال ہے کہ گویا انسان جو دعا کر رہا ہوتا ہے وہ اس وقت اپنے پر ایک موت وارد کر لیتا ہے تو جب ایک انسان ان دو موتوں کو اپنے نفس پر قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے اس وقت اللہ تعالیٰ کی معجزانہ نصرت ملتی ہے۔سی بھی واضح رہے کہ اس میدان میں کسی ماں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل بچہ نہیں جنا۔آپ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ تکالیف برداشت کیں کہ جن کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں نیز دنیا میں کوئی اور ایسا انسان نہیں جس کو خدا تعالیٰ کے نام پر اور مذہب کی وجہ سے اور عقائد کے نتیجہ میں اس قدر دُکھ پہنچایا گیا ہو اس قدر ایذا دی گئی ہو اور اس قدر تکالیف پہنچائی گئی ہوں اور دنیا میں آپ کے سوا کوئی انسان ایسا بھی پیدا نہیں ہوا جس نے آستانہ الوہیت پر اپنی روح کو اس طرح گداز کر دیا ہو اور بہا دیا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اپنے ربّ کے حضور جھکی اور بالکل گداز ہوگئی اور پانی بن کر بہہ نکلی آپ کی تیرہ سالہ مکی زندگی کا ایک ایک لحظہ اس صداقت کا گواہ ہے۔وہ کون سا ظلم تھا جس کا آپ نشانہ نہ بنے وہ کون سی بے عزتی تھی جو آپ کو دیکھنی نہ پڑی وہ کون سی تکلیف تھی جسمانی بھی اور جذباتی بھی جس میں سے آپ اس زمانہ میں نہ گزرے اس زمانہ کی ہر گھڑی میں نہ گزرے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے تو ایک دفعہ منکر نے آگ جلائی تھی اور اپنی زندگی میں انہیں ایک دفعہ اس آگ میں پھینکا گیا تھا اور صرف ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی تجلی اس عظمت اور شان کے ساتھ ظاہر ہوئی تھی کہ اس آگ کو اس نے ٹھنڈک اور روح کا سکون بنا دیا تھا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں نے قریباً تیرہ سو سال تک آپ کے لئے آگ جلائے رکھی اور خدا تعالیٰ نے ایک طرف اس آگ کو کہا کہ میرے محبوب بندے کے لئے تو تیرہ سال تک بھڑکتی رہے نیز منکروں کو کہا کہ تمہیں اجازت ہے کہ تیرہ سال تک اس آگ کو تم مشتعل رکھ اور دوسری طرف اس آگ کو یہ بھی کہا کہ میرے اس پیارے بندے پہ تیرا کوئی اثر نہیں ہوگا۔سوائے اس کے کہ تو اس کے احساس میں بر داور سلامتی پیدا کرنے والی ہو۔غرض تیرہ سال تک دشمن کی جلائی ہوئی آگ میں بظاہر آپ جلائے گئے اور تیرہ سال تک خدا تعالیٰ نے آپ کی نصرت اور امداد اس رنگ میں کی کہ دنیا آپ کو آگ میں دیکھ رہی تھی اور آپ خود اپنے کو جنت میں محسوس کر رہے تھے۔اس تیرہ سالہ مظلومانہ زندگی کے بعد آپ اس