خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 138
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۸ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اس پر مجھے خیال آیا کہ میں اس جلسہ کے موقع پر دوستوں کے سامنے وہ باتیں بیان کروں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا ذریعہ بنتی ہیں اور جنہیں قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر بیان کیا ہے چنانچہ اس کے متعلق میں نے غور کرنا شروع کیا اور قرآن کریم کی آیات جمع کرنی شروع کیں لیکن پھر یکدم مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے اندھیرے نے مجھے گھیرا ہے اور مضمون کو آگے نکلنے کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے میری طبیعت میں بڑی پریشانی پیدا ہوئی اور طبیعت اپنے رب کی طرف مائل ہوئی اور اس کی مدد طلب کرنے کے لئے اس کی طرف جھکی اور دعا میں مشغول ہوگئی تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ میں اس مضمون کو جلسہ کے موقع پر اس رنگ میں بیان نہ کروں بلکہ اس سلسلہ میں دو بنیادی باتیں بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی نفرتیں اور اس کی تائید میں ملیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا نزول آپ پر ہوا اس کو اپنے دوستوں کے سامنے رکھوں کہ یہ بھی اس مضمون کا ہی ایک حصہ ہے جسے میں نے آج بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔چنانچہ جب میں نے اس حصہ مضمون کے متعلق حوالہ جات اکٹھا کرنے اور کروانے شروع کئے تو مجھے معلوم ہوا؟ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا سلوک تھا وہ تین بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتا ہے ان میں سے بعض تائیدات اور نشانات جو مخصوص افراد کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور وہ ایک زبر دست تاریخی شہادت کے طور پر ایک مستقل حیثیت میں رہتی دنیا تک قائم رہیں گے لیکن بہت سی تائیدات اور نصر تیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس رنگ میں بھی ملیں کہ ان کا سلسلہ جاری ہے۔بند نہیں ہوا۔اس میدان میں ہر احمدی آج بھی کھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق حق کو حق ثابت کرنے کے لئے تیار ہے اور تیری بعض عام اور ہمہ گیر نوعیت کی تائیدات تھیں جن کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیئے گئے تھے۔یہ میرے آج کے مضمون کا خلاصہ ہے۔قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر دو ایسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی معجزانہ نصرت کو جذب کرتی ہیں۔ان میں سے ایک انتہائی مظلومیت ہے کہ دشمن مارنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کا بندہ اپنے رب کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہو