خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 131
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۱ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب کس کا پیٹ بھرتا ہے یا نہیں ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ حکومت وقت بد نام ہوتی ہے یا نہیں وہ فتنہ اور فساد کا راستہ اختیار کرتے ہیں سر توڑنے سے کسی کا پیٹ نہیں بھرا کرتا جس طرح کسی کے صلیب پر چڑھائے جانے سے کسی اور کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے۔پیٹ بھرنے کے لئے روٹی چاہیئے اس کے لئے نعروں کی ضرورت نہیں ، اس کے لئے سر پھٹول کی ضرورت نہیں ، اس کے لئے فتنہ اور فساد کی ضرورت نہیں، اس کے لئے باہمی لڑائی اور جھگڑے کی ضرورت نہیں ، اس کے لئے ضرورت ہے اس بات کی کہ قوم کا ہر فرد بشر حکومت وقت کے ساتھ تعاون کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے پیارا اور عشق کا مظاہرہ کرے اور کہے غریب آدمی ہم میں سے جس کو خدا تعالیٰ نے اتنا رزق دیا ہے کہ وہ بھوکا نہیں رہتا کہ میں تین کا کھانا پکا تا ہوں ایک کے کھانے کی میری ذمہ داری اور جو متوسط طبقہ اور امیر ہے وہ یہ کہے کہ میرے گھر میں ہیں آدمیوں کا کھانا پکتا ہے میں آدمیوں کی ذمہ داری میری اسی کھانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مزید بیس کا کھانا نکل آئے گا۔اگر ہم اس طرح سوچیں اور حکومت سے تعاون کریں اور ان کے بتائے ہوئے طریق کو استعمال کریں اور کھانے کو ضائع ہونے سے بچائیں اور جو ہم زائد کھانا کھا لیتے ہیں بے خیالی میں اپنے جسموں کو نقصان پہنچاتے ہیں اگر ہم اس کھانے کو بچالیں اور اپنے جسموں کو بھی نقصان سے بچا کر اس کھانے کی بھی حفاظت کریں کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو رات کو بھو کا سوئے۔پس آپ لوگ جو پاکستان کے اطراف سے اکٹھے ہو کر اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں آپ یہ سن لیں کہ جماعت کی پالیسی یہ ہے کہ جس طرح ہر دوسرے معاملہ میں ہم نیک باتوں میں حکومت وقت کا ساتھ دیتے اور اس سے تعاون کرتے ہیں یہ بھی ایک بڑا ہی اہم مسئلہ ہے اور اگر ہم نے حکومت سے تعاون کر کے خوش اسلوبی کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کرنے میں مدد نہ دی اوروں پر اگر کوئی ذمہ داری پڑتی ہے یا نہیں پڑتی مجھے کیا اس سے آپ پر ضرور ذمہ داری پڑ جاتی ہے پس آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس کو نباہنے کی کوشش کریں جس علاقہ میں جس شہر میں جس گاؤں میں جس محلہ میں آپ رہتے ہیں اس محلہ کو سمجھائیں کہ تم دوسروں سے لڑنے کی بجائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عملاً اپنی محبت اور تعلق کا اظہار کرو آپ نے یہ فرمایا ہے بہت