خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 125
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۵ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار ایک موصی کو نہیں کرنی چاہئے۔دوسری ذمہ داری ان پر یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ وقف عارضی کی جو سکیم جاری کی گئی ہے جماعت اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اس میں حصہ لے رہی ہے یا نہیں اور اگر نہیں لے رہی تو اپنے بھائیوں ( موصیوں کو بھی اور غیر موصوں کو بھی) کو اس طرف متوجہ کریں اور پانچ ہزار کیا اگر ہم چاہیں تو دس پندرہ ہزار بھی واقفین عارضی ہمیں مل سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ جو شاندار نکل سکتا ہے وہ اگر آپ یہ قربانی دیں تو جب نکلے گا اُسے دیکھ کر آپ خوش ہوں گے تو مجلس موصیان پر ایک یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وقف عارضی کی سکیم اور منصوبہ کو زیادہ سے زیادہ کامیاب کرنے کی کوشش ہر وقت کرتے رہیں۔اور مجلس موصیان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ ہر گھر میں ہر بچہ ہر بڑا ہر مرد اور ہر عورت قرآن کریم سیکھنے اور قرآن کو سمجھنے اور قرآن کریم کے علوم حاصل کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔اگر مجلس موصیاں اس کی طرف توجہ دے تو میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اجر اور ثواب میں بڑی زیادتی کرے گا اور جو مقام خدا کی نگاہ میں اس کوشش کے بغیر ان کا جنت میں تھا اس سے کہیں بلند یہ مقام جنت میں انہیں نصیب ہوگا۔تعلیم القرآن کے متعلق دوست یہ سن کر خوش بھی ہوں گے اور شرمندہ بھی کہ ہماری بہنیں اور بچیاں زیادہ فیصد قرآن پڑھی ہوئی اور زیادہ شوق کے ساتھ قرآن کریم کے پڑھنے کی طرف متوجہ ہیں۔ہمارے مرد اور ہمارے بچے اس شوق اور جذبہ کے ساتھ تعلیم قرآن کی سکیم میں شامل نہیں ہوئے جس جذبہ اور شوق کے ساتھ ہماری بہنیں اور بچیاں شامل ہوئی ہیں تو ایک لحاظ - ہمیں خوشی ہے اور دوسری طرف سے یہ سوچ کر شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے کہ عورتیں ہو کر ہم۔آگے نکلی جا رہی ہیں ویسے تو میں نے کہا تھا کہ میں نے اپنے رب سے یہ عہد کیا ہے کہ جس حد تک مجھے اس نے توفیق اور طاقت دی میں آپ کو اس وقت تک چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ میں سے ہر ایک کو قرآن کریم ناظرہ نہ پڑھا لوں اور اس کا ترجمہ سکھانے کا انتظام نہ کرلوں اور آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں کہ جو آپ کے خلاف یا آپ کے حق میں جو بھی آپ سمجھیں میں نے یہ عہد کیا ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس کے پورا کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس کے لئے سامان ނ