خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 124
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۴ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اور صاف مسلمان ہو“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ صفحہ ۳۲۰) اس شرط کی نگرانی جماعت کو کرنی چاہئے تھی یہ ان کے فرائض میں سے ہے ہمارا عام جو نظام ہے لیکن مجھے یہ احساس ہے کہ جماعت اس شرط کی نگرانی نہیں کرتی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موصوں پر اس بلند مقام کو قائم رکھنے کے لئے جو ظاہری دباؤ پڑنا چاہئے وہ دباؤ ان پر نہیں پڑا بہت سے موصی ایسے ہیں جو عادتاً غفلت کے نتیجہ میں اس مقام سے گر گئے اب خدا تعالیٰ نے تو صرف ظاہر کو نہیں دیکھنا۔مجھے یا آپ کو دھو کہ لگ سکتا ہے رب کو تو دھو کہ نہیں لگ سکتا اس علام الغیوب ہستی کو تو جو چیز ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتی اپنے متعلق ، اس کا بھی علم ہے۔پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة: ۳) کے ارشاد کے ماتحت موصوں کی اس مجلس پر ذمہ داری یہ ڈالیں کہ وہ اس شرط کے مطابق بھی وصیت کرنے والے مردوں اور وصیت کرنے والی عورتوں کی نگرانی کریں کہ وہ تقویٰ کے بلند معیار پر قائم رہتے ہیں یا نہیں اور ہر قسم کے بیچ ترک کر کے سیدھے سادھے بچے صاف مسلمان بنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں اگر وہ غفلت کرتے یاستی دکھاتے ہیں تو ان کی اصلاح کی کوشش ہونی چاہیئے اگر ہماری یہ کوشش ناکام ہوتی ہے تو ان کی وصیتیں منسوخ ہونی چاہئیں اگر کوئی موصی چھ ماہ چندہ نہ دے تو ہم اس کی وصیت منسوخ کر دیتے ہیں اور اگر کوئی موصی خدانخواستہ چھ مہینے نماز نہ پڑھے تو ہمیں علم چھ نہ تو تک نہیں ہوتا کہ وہ تارک الصلوۃ ہے میں تو سوچتا ہوں کانپ اُٹھتا ہوں اتنا شدید خوف میرے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ میرا رب کیا کہے گا کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو اس طرح نبھاتے رہے ہو۔پس ایک ضروری کام اس مجلس موصیاں کا یہ ہے کہ وہ ہر وقت چوکسی اور بیداری کے ساتھ جائزہ لیتی رہے کہ کوئی موصی مرد یا موصی عورت اپنے بلند مقام تقویٰ سے ( یہ صحیح ہے کہ ہم نے صرف ظاہری تقوی کو ہی دیکھنا ہے۔دل کا حال صرف خدا جانتا ہے اور اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں) لیکن ظاہری جو مقام تقویٰ ہے اس سے تو نہیں گرتا ظاہر میں کوئی ایسی حرکت تو نہیں کرتا جو