خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 123

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۳ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب نمونے دیکھے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے تربیت کے علاوہ ان دوستوں سے تبلیغ کا کام بھی لیا ہے پس یہ سکیم بڑی برکتوں والی ہے۔آج اس کے دو جگہ دفتر کھلے ہیں ایک تو جلسہ گاہ سے باہر خیمہ میں اور ایک مستقل دفتر جو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے احاطہ میں ہے۔آپ ان دفتروں میں سے فارم حاصل کریں اور انہیں پر کر کے دیں اتنے ہزار دوست آپ یہاں میرے سامنے بیٹھے ہیں کیا آپ پانچ ہزار واقفین مجھے نہیں دے سکتے ؟ آپ یہاں سے فارغ ہو کر خلوص نیت سے فارم لیں اور دعائیں کرتے ہوئے انہیں پر کریں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس طرح بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی برکتوں کے آپ وارث بنیں گے۔مجلس موصیان کے قیام کے متعلق میں نے اعلان کیا تو بہت سی جماعتوں نے فوراً انتخاب کر کے بھجوانے شروع کر دیئے اور میں ڈر گیا کیونکہ اُنہوں نے صدر انجمن احمد یہ کے قواعد کے مطابق خود ہی کورم مقرر کر لیا مجھ سے یہ غلطی ہوئی یا اس میں بھی کوئی حکمت تھی کہ میں نے اس کے لئے کوئی کورم مقرر نہ کیا موصیوں کے لئے ۲۵ فیصد کورم کا کیا مطلب ہے موصیوں کا کورم تو سو فیصدی ہے سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی جائز مجبوری ہو اور وہ نہ آ سکتا ہو اس کے علاوہ تو کوئی کورم نہیں فیصدی کو رم ہے کہ کوئی جماعت انتخاب نہ کروائے آپ ہی میں قواعد بناؤں گا تو پھر آپ انتخاب کر کے بھیجیں آج میں اعلان کرتا ہوں کہ اگلے دو ماہ کے اندر اندر مجلس موصیان ہر جماعت میں قائم ہو جانی چاہئے اور اس کی ذمہ داری امیر ضلع اور ضلع کے مربی یامر بیان پر ہے اور مجلس موصیان کا کورم سو فیصدی ہے سوائے اس کے کہ کوئی بیمار ہو یا اسے اس تاریخ کو بوجہ مجبوری اس کو باہر جانا پڑا ہو یعنی اگر کوئی مجبوری نہیں تو موصی کو اپنے سفر کا پروگرام منسوخ کرنا چاہئے اور اُس مجلس میں اسے شامل ہونا چاہئے اور اس مجلس کا قیام جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ اپنا صدر منتخب کریں گے یہ صدر جو جماعت کا سیکرٹری وصایا بھی ہوگا اور مستورات موصیات جو ہیں وہ الگ مجلس قائم کریں گی اور اپنی صدر مقرر کریں گی جو مجلس مومیان کی نائب صدر ہوگی اور ان کے اوپر ذمہ داری جو ہے کام جو پہلے چل رہا ہے وہ بھی اس شخص نے کرنا ہے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نظام وصیت کو قائم کرتے ہوئے یہ ارشادفرمایا تھا کہ