خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 104
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۰۴ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب پیشگوئی انفرنس (Inference) کے رنگ میں میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ حالات پیدا ہو جائیں گے۔اب وہ کونسی روکیں ہیں جو ۱۹۴۴ء تک عملاً جو ہوا وہ چوالیس تک کا زمانہ ہے۔یعنی ویسے تو حضور نے فرمایا ۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۴ء لیکن عملاً جو ہم نے دیکھا وہ روکیں ۱۹۴۴ء تک قائم رہیں اور ۱۹۴۵ء میں یکدم دور ہو گئیں اور دور بھی ہوئی ہیں یکدم کچھ مجھ نہیں آتی۔میں نے جب یہ حوالہ پڑھا میری توجہ اس طرف گئی کہ حضور نے بڑی اہم بات کہی تھی لیکن ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ وہ کون سی روکیں تھیں جو ۱۹۴۴ء تک قائم رہیں اور پھر ۱۹۴۵ء میں دور ہو گئیں۔تو ایک اور عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ہی ہدایت دیتا ہے اور خود ہی راہنمائی کرتا ہے۔میں نے تحریک جدید سے بعض معلومات حاصل کیں تو جب میرے سامنے آئیں تو اس سوال کا جواب ان معلومات میں موجود تھا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہاں سے مجھے مل جائے گا۔تو میں نے خدا تعالیٰ کا بڑا شکر کیا اور اس کی حمد کی کہ پہلے ایک مسئلہ کی طرف توجہ دلائی پھر اپنی طرف سے ہی سامان پیدا کر دیئے کہ اس کا حل بھی مجھے معلوم ہو جائے۔اور وہ حل یہ ہے اور وہ روکیں جو ہیں وہ یہ ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا تحر یک جدید ابتداء تین سال کے لئے جاری کی گئی اور اس کے بعد اس کا دوسرا دور سات سالہ ہوا یعنی مالی قربانیوں کا۔اور یہ محدود سات سال دوسر لئے ہوئے تھے جس کی وجہ خود حضور نے بتائی جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں۔109 یہ دس سالہ دور ۱۹۴۴ء میں ختم ہوتا ہے جیسا کہ خود حضور کا منشا یہی تھا لیکن اس زمانہ میں یعنی ۱۹۳۷ء یا ۱۹۳۸ء میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ سے علم نہ حاصل کرے کہ یکدم اور اچانک دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوگا اور وہ اس طرح بپا ہوا کہ جس وقت تحریک جدید کی ابتداء کی گئی اس وقت تمام دنیا میں جماعت جو کام کر رہی تھی اس کا بار مرکز کے اوپر تھا۔اس وقت ابھی پارٹیشن نہیں ہوئی تھی اور سارا ملک ہندوستان کہلا تا تھا۔بعد میں وہ تقسیم ہو گیا اور پاکستان علیحدہ قائم ہو گیا اور جماعت کا مرکز پاکستان میں آ گیا۔اس لئے میں اس وقت لفظ مرکز ہی استعمال کروں گا تا سمجھنے میں آسانی ہو۔تو جو کام بھی ہم کرتے تھے اس کا سارا مالی بوجھ مرکزی جماعت پر ہوا کرتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام دنیا میں غلبہ اسلام کے کام کی ذمہ داری صرف مرکزی