خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 94
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۴ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب جہاں وہ مٹی تھی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدم پڑے تھے جس کی سرزمین وہ سرزمین تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ارضِ حرم قرار دیا تھا آپ نے چھوڑا۔اس زمین سے آپ نکلے تو آپ خوش تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مسیح کے گاؤں اور اس کے شہر کو سونا چھوڑ کر جارہے ہیں۔آپ نے اس وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ سو میں سے ننانوے احمدی آپ کے ساتھ ہیں اور سو میں سے ایک آدمی آپ پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔آپ نے اس وقت ایسے سامان پیدا کر دئیے تھے کہ خزانہ س وقت خالی تھا۔اس میں شاید چند آنے تھے گویا اس سونے گھر کو آباد کرنے کا بھی آپ نے اپنے زعم میں کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا تھا اور آپ میں سے بعض نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ قادیان کے تعلیمی اداروں پر عیسائیت کا قبضہ ہو گا اور اس کے مکانوں میں اُتو بولیں گے مگر خدا تعالیٰ نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو جو اس کی نگاہ میں حقیقی انسان نہیں تھے قادیان میں نہیں رہنے دے گا اور وہ دن اور آج کا دن اللہ تعالیٰ نے جو سورج ہم پر چڑھا یا وہ ایک زیادہ طاقت ور، ایک زیادہ منظم اور تعداد میں زیادہ جماعت کے اوپر چڑھا اور ہر سورج جو آپ پر چڑھا اس نے آپ کے کان میں یہ سرگوشی کی کہ تمہارا قدم تنزل کی طرف آیا ہے اور تم تنزل کے گڑھوں کی طرف جارہے ہو۔اس وقت آپ کی جماعت (آپ کے کہنے کے مطابق ) سو میں سے ننانوے تھی اور آج اگر میں ایک کو نہ پھاڑوں تو میں اس نسبت کو بیان ہی نہیں کر سکتا جو آپ کی جماعت کو ہماری جماعت کے مقابلہ میں ہے۔آپ ہمارے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہیں رہے۔یہ پاک نفوس جو آج میرے سامنے بیٹھے ہیں یا عورتوں کے جلسہ گاہ میں جو پاک ہستیاں بیٹھی ہیں ان میں سے ہر ایک اس بات پر گواہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ہمارے عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ ۱۹۱۴ء سے لے کر آج تک خدا تعالیٰ کے اس سلوک میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جو ہمارے ساتھ رہا ہے۔اس کا ہمارے ساتھ جو سلوک ۱۹۱۴ء میں تھا یا جو ۱۹۱۵ء میں تھا وہی سلوک آج بھی ہے۔اگر ہمارے عقائد بدل جاتے تو خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ سلوک بھی بدل جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہر قوم کے ساتھ چلتا ہے اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتارہی ہے کہ