مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 94
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس ملک میں فوجیں بھیجتے تھے تاکید کرتے تھے کہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی ترغیب دلائی جائے اور اسلام کے اصول سمجھائے جائیں۔چنانچہ فاتح ایران سعد بن ابی وقاص کو جو خط لکھا اس میں یہ الفاظ تھے: وَقَدْ كُنْتُ أَمَرُ تِكَ اَنْ تَدْعُوا مَنْ لَقِيْتَهُ إِلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ قاضی ابو یوسف صاحب نے لکھا ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کے پاس کوئی فوج مہیا ہوتی تھی تو ان پر ایسا افسر مقرر کرتے تھے جو صاحب علم اور صاحب فقہ ہوتا تھا یہ ظاہر ہے کہ فوجی افسروں کے لیے علم وفقہ کی ضرورت اسی تبلیغ اسلام کی ضرورت سے تھی۔شام و عراق کی فتوحات میں تم نے پڑھا ہو گا کہ ایرانیوں اور عیسائیوں کے پاس جو اسلامی سفارتیں گئیں انہوں نے کس خوبی اور صفائی سے اسلام کے اصول و عقائد ان کے سامنے بیان کئے۔اشاعت اسلام کی بڑی تدبیر یہ ہے کہ غیر قوموں کو اسلام کا جو نمونہ دکھلایا جائے وہ ایسا ہو کہ خود بخود لوگوں کے دل اسلام کی طرف کھینچ آئیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا اور اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اپنی تربیت اور ارشاد سے تمام مسلمانوں کو اسلام کا اصلی نمونہ بنا دیا تھا۔اسلامی فوجیں جس ملک میں جاتی تھیں لوگوں کو خواہ مخواہ ان کے دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا تھا کیونکہ چند بادیہ نشینوں کا دنیا کی تسخیر کو اُٹھنا حیرت اور استعجاب سے خالی نہ تھا اس طرح جب لوگوں کو ان کے دیکھنے اور ان سے ملنے جلنے کا اتفاق ہوتا تھا تو ایک ایک مسلمان سچائی سادگی اور پاکیزگی جوش اور اخلاص کی تصویر نظر آتا تھا۔یہ چیزیں خود بخود لوگوں کے دل کھینچتی تھیں اور اسلام ان میں گھر کر جاتا تھا۔“ (الفاروق - صفحہ 353 و 354۔مصنفہ: علامہ شبلی نعمانی) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں ہونے والی اشاعت اسلام کے بارے میں سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: قرآن مجید جو اساس اسلام ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اصرار سے کتابی صورت میں عہد صدیقی میں مرتب کیا گیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے اپنے عہد میں اس کے درس و تدریس کا رواج معلمین اور حفاظ اور موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، حضرت عبادہ بن الصامت، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہم کو جو حفاظ قرآن اور صحابہ کبار میں سے تھے، قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لئے ملک شام میں روانہ کیا، قرآن مجید کو صحت کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے تاکیدی احکام روانہ کئے۔ابن الانباری کی روایت کے مطابق ایک حکم نامہ کے الفاظ یہ ہیں: تُعَلِمُوا أَعْرَابَ الْقُرْآنَ كَمَا تُعَلِّمُونَ حِفْظَهُ - غرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مساعی جمیلہ سے قرآن کی تعلیم ایسی عام ہو گئی تھی کہ ناظرہ خوانوں کا تو شمار ہی نہیں، حافظوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ صرف میری فوج میں تین سو حافظ ہیں۔“ (سیر الصحابہ جلد 1 - صفحه 147) 3 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں اشاعت اسلام: اشاعت اسلام کے حوالے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی کوششوں کے بارے میں سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: ”مذہبی خدمات کے سلسلہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے زیادہ روشن کارنامه قرآن مجید کو اختلاف و تحریف سے محفوظ کرنا اور اس کی عام اشاعت ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آرمینیہ اور آذر بائیجان کی مہم میں 94 +4