مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 597
تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے اس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعوئی ہے نہ مجھے کسی دعوئی میں خوشی ہے۔میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آ جائے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر راضی ہو جائے۔اور میرا خاتمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔“ الموعود تقریر حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرمودہ 28 دسمبر 1944ء بمقام قادیان 66 تا 68) دعوی مصلح موعود کے متعلق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کا حلفیہ اعلان: میں کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پیشگوئیوں کا مورد بنایا ہے جو ایک آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمائیں۔جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افترا سے کام لیا ہے یا اس بارہ میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اس معاملہ میں میرے ساتھ مباہلہ کر لے اور یا پھر وہ اللہ تعالیٰ کی مؤکد بعذاب کھا کر اعلان کر دے کہ اسے خدا نے کہا ہے کہ میں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرما دے گا کہ کون کاذب ہے اور کون صادق۔۔۔غرض اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اپنے الہام اور اعلام کے ذریعہ مجھے بتادیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہو چکی ہے اور اب دشمنان اسلام پر خدا تعالیٰ نے کامل حجت کر دی ہے اور ان پر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اسلام کو جھوٹا کہتے ہیں کاذب ہیں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب کہتے ہیں۔خدا نے اس عظیم الشان پیشگوئی کے ذریعہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔پیشگوئی مصلح موعود میں مذکور علامات کا ظہور : 66۔الموعود تقریر حضرت مصلح الموعود رضی اللہ عنہ صفحہ 207 تا209) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پہلی پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ علوم ظاہری سے پُر کیا جائے گا۔اس پیشگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ علم ظاہری سیکھے گا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ علوم ظاہری میں خوب مہارت رکھتا ہو گا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ وہ علوم ظاہری سے پُر کیا جائے گا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی اور طاقت اسے یہ علوم ظاہری سکھائے گی۔اس کی اپنی کوشش اور محنت اور جدوجہد کا دو اس میں دخل نہیں ہو گا۔یہاں علوم ظاہری سے مراد حساب اور سائنس وغیرہ علوم نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں ” پر کیا جائے گا“ کے الفاظ ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سائنس اور حساب اور جغرافیہ وغیرہ علوم نہیں سکھائے جاتے بلکہ دین اور قرآن سکھلایا پس پیشگوئی کے ان الفاظ کا کہ وہ علوم ظاہری سے پُر کیا جائیگا یہ مفہوم ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم دینیہ اور قرآنیہ سکھلائے جائیں گے اور خدا خود اس کا معلم ہوگا۔“ جاتا ہے۔597