مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 591
اشتہار شائع کیا جس میں آپ علیہ السلام نے مصلح موعود کی پیدائش کے متعلق تحریر فرمایا کہ: " ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہی 9 برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔“ وو ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 98 جدید ایڈیشن) اس پیشگوئی کے بعد 7 راگست 1887ء بروز یک شنبہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا جو 4 نومبر 1888ء کو اسی روز یعنی یک شنبہ کو وفات پا گیا جس پر مخالفین نے شور مچایا۔اس لڑکے یعنی بشیر اوّل کی وفات کے بعد حضور علیہ السلام نے سبز اشتہار کے نام سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو 7 اگست 1887ء روز یک شنبہ میں پیدا ہوا تھا اور 4 نومبر 1888ء کو اسی روز یک شنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افترا ہے انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع و اقسام کی افترا گھڑنی شروع کی۔سو ہر چند ابتدا میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی۔کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کی ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے لیکن جب یہ شور وغوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے حض اللہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار 20 فروری 1886ء و 8 اپریل 1886ء اور 7 اگست 1887ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔بعضوں نے اپنی طرف سے افتراء کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اس بچہ کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہنے والا ہو گا۔لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے انہوں نے بڑا دھوکا کھایا ہے یا دھوکا دینا چاہا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہ اگست 1887ء تک جو پسر متوفی کی وفات کا مہینہ ہے، جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھپے ہیں جن کا لیکھرام پشاوری نے وجہ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے۔ان میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعوی کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا ہے۔“ ( یہ سہو کاتب ہے صحیح بجائے ” وفات“ کے ” پیدائش ہے۔شمس) پر (سبز اشتہار روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 2-1) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " آج تک ہم نے کسی اشتہار میں نہیں لکھا کہ یہ لڑکا عمر پانے والا ہو گا اور نہ یہ کہا کہ یہی مصلح موعود ہے۔بلکہ ہمارے اشتہار 20 فروری 1886ء میں بعض ہمارے لڑکوں کی نسبت یہ پیشگوئی موجود تھی کہ وہ کم عمری میں فوت ہوں گے۔پس سوچنا چاہئے کہ اس لڑکے کی وفات سے ایک پیش گوئی پوری ہوئی یا جھوٹی نکلی بلکہ جس قدر ہم نے لوگوں میں الہامات شائع کئے اکثر اُن کے اِس لڑکے کی وفات پر دلالت کرتے تھے۔چنانچہ 591