مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 562
بتایا ہے کہ پیسے لیتے ہوئے جوش نہیں ہوا کرتا اصل جوش وہ ہے جو پیسے دیتے وقت دکھایا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ وہ زندگی کی علامت ہے جس نے احمدی خواتین کو سب دنیا میں ممتاز کر دیا ہے۔“ فیضان علمی: محسنات صفحه 212 و 213 از لجنہ اماء اللہ کراچی) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد بیان کرتے و ہے فرمایا: "يُـخــي الدِّينَ وَ يُقِيمُ الشَّرِيعَة۔۔که موعود نبی دین اسلام کا احیا اور شریعت کا قیام کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اس عظیم الشان مقصد کو خلفائے احمدیت نے آگے بڑھایا۔کہیں تو نبوت کے فیضان کو ٹھوس علمی اور تحقیقی کتب کے ذریعہ سے عام کیا اور کہیں زمانے کے تقاضوں کے مطابق قرآن و حدیث کی ایسی تشریحات کیں کہ جن سے روح وجد میں آ گئی۔خطبات اور خطابات کے ذریعہ تشنہ روحوں کی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے مسائل میں رہنمائی فرمائی۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں علمی فیضان کی ایک جھلک احمدی اخبارات و رسائل کی شکل میں نظر آتی ہے۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں اخبار نور، اخبار الحق، رسالہ احمدی، احمدی خاتون، اخبار پیغام صلح اور الفضل کا اجرا ہوا۔الفضل 24 مئی 2006ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی تعلیمی حالت کا ذکر اپنی کتاب ملا نگہ اللہ میں یوں فرمایا ہے: ” میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا۔ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آجائے، ایسے علم کا مدعی آجائے جس کا میں نے نام بھی نہ سنا ہو اور وہ اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پر پیش کرے اور میں اسے لاجواب نہ کر دوں تو جو اس کا جی چاہے کہے۔ضرورت کے وقت پر خدا علم مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہے جو مقابلے میں ٹھہر سکے۔“ مانگہ اللہ - صفحہ 53 ، ایڈیشن 1956 ء) رضی اللہ عنہ کے اس دعویٰ کی تصدیق و معرکۃ الآرا خطابات و تقاریر کر رہے ہیں جن میں آپ رضی اللہ عنہ نے صدیوں پرانی گتھیوں کو سلجھایا اور دین اسلام کے نہ صرف حاضرہ مسائل کا حل کیا بلکہ اسلام کے مستقبل سے بھی آگاہ کیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مختلف علمی موضوعات پر کتب تحریر فرمائیں جن کی تقسیم کچھ یوں کی جا سکتی ہے۔1) دینی و مذہبی تصانیف (2) دعوت الی اللہ سے متعلق تصانیف (3) اصلاحی و اخلاقی تصانیف (4) سیاسی تصانیف (5) اقتصادی و عمرانی مسائل پر تصانیف (6) تاریخی و سوانحی تصانیف (7 دہریت اور عیسائیت کے باب میں تصانیف 8) ہندومت، آریہ دھرم اور سکھ پیٹھ کے بارے میں تصانیف 9) فلسفیانہ تصانیف (10) تصوف و الہیات سے متعلق تصانیف (11) مذہب اور سائنس کے بارے میں تصانیف (12) مخالفین رسول کے جوابات (13) زمینداروں کے مسائل کے بارے میں (14) تحریک کشمیر پر 15 خواتین کے مسائل 16) قیام و استحکام پاکستان (17) سرمایہ داری اور کیمونزم وغیرہ پر۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تصنیفات میں دورِ حاضر کے بعض پیچیدہ مسائل کا حل نہایت عمدگی سے عام فہم انداز میں تحریر فرمایا۔اس سلسلہ میں بطور مثال دو تصنیفات کے متعلق عرض ہے۔562