مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 484
رخ دوسری جانب دھکیلتا ہے۔پھر جناب بی اے رفیق کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ہے اور بڑی ترش روئی سے اور ناک چڑھاتے ہوئے کہتا ہے:۔میں اُس کو (یعنی حضرت خلیفہ رابع رحمہ اللہ ( کو ایسا سبق سکھاؤں گا جسے وہ عمر بھر یا د رکھے گا۔“ ( حضرت ) خلیفہ رابع نے اس مکتوب کے جواب میں لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق اصلاح کی طرف ہرگز مائل نہیں ہے۔خدا تعالیٰ اس دشمن احمدیت کے منصوبوں کو خاک میں ملا دے اور اسے اپنے ارادوں میں ناکام و نامراد کرے۔ضیاء الحق اور اس کے ساتھیوں کا انجام: اس دن یعنی سترہ اگست کو اس خواب اور حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس تبصرہ کچند گھنٹے بعد اچانک پاکستان کا آمر مطلق، جنرل ضیاء الحق اپنے C130 طیارے سمیت آسمان پر ہی جل مرا اور پھر آگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا اس کا طیارہ زمین پر گرا اور یوں یہ دشمن احمدیت جل کر خاکستر ہو گیا۔ضياء الحق۔گئے۔پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صدارتی ہوائی جہاز سہ پہر تین بج کر چھیالیس منٹ پر پاکستان کے جنوب مشرق میں واقع بہاولپور کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔وہ آج میجر جنرل محمود درانی کی درخواست پر صبح صبح بہاولپور پہنچے تھے۔میجر جنرل محمود ان کے ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے اور اب بکتر بند فوج کے کمانڈر تھے۔انہوں نے جنرل ضیاء الحق سے گزارش کی تھی کہ نئے اور جدید ساخت کے ایک امریکی ٹینک کی آزمائش کے وقت پاکستان کی بری افواج کے تمام کمانڈر موقع پر موجود ہوں گے لیکن اگر آپ نہ آئے تو امریکہ اسے اپنی ہتک خیال کرے گا۔ٹینک کا آزمائشی تجربہ سرے سے ناکام رہا اور اس کا نشانہ چوک گیا لیکن جنرل ضیاء الحق بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔انہوں نے دوپہر کا کھانا آفیسرز میں (Officers Mess) میں کھایا۔کھانے سے فارغ ہو کر وہ رن وے پر پہنچے جہاں ان کا ہوائی جہاز پاک ون Pak One) انتہائی حفاظتی پہرے میں ان کا منتظر تھا، جنرل ،قبلہ رُخ ہو کر جھکے، بہاولپور ہی میں رُک جانے والے جرنیلوں سے ملے، اُن سے فرداً فرداً معانقہ کیا، رخصت ہو کر سیڑھیاں طے کرتے ہوئے جہاز میں داخل ہوئے اور سفر پر روانہ ہو C130 ایک ٹرانسپورٹ طیارہ ہے۔ایک خاص قسم کا ائر کنڈیشنڈ سفری کمرہ جہاز کے اندر نصب کر دیا گیا تھا۔اس کے اگلے حصے میں جو اہم ترین شخصیات کے لیے مخصوص تھا، جنرل ضیاء الحق بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سامنے جنرل اختر عبدالرحمان چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف تشریف فرما تھے جو جنرل ضیاء الحق کے بعد پاکستان کی مقتدر ترین شخصیت تھے، ان کے ساتھ پاکستان میں مقیم امریکن سفیر آرنلڈ - ایل۔ریفائل (Arnold L۔Raphael) اور پاکستان میں امریکن ملٹری مشن کے سربراہ جنرل ہر برٹ واسم (General Herbert Wassom) براجمان تھے۔ان کے بعد آٹھ پاکستانی جرنیل اپنی اپنی نشستوں پر متمکن تھے۔پہلے سینا (Cessna) حفاظتی طیارے نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔یہ معمول کی احتیاطی پرواز اس وقت سے باقاعدہ کی جاری تھی جب چھ سال قبل جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو میزائل کے ذریعے مار گرانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس احتیاطی جائزے کے بعد کنٹرول ٹاور نے جہاز کو پرواز کی اجازت دے دی۔طیارہ اڑا اور ذرا فضا میں بلند ہوا۔کنٹرول ٹاور نے جہاز کے کپتان سے دریافت کیا: ”جہاز کا محل وقوع بتائیں؟“ جہاز کے کپتان نے جواب دیا: یہ پاک ون Pak One) ہے! جواب کا انتظار کریں۔اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا اور روانگی کے چند منٹ کے بعد صدارتی طیارہ 484