مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 483
کھا کر اور تیری غیرت کو ابھارتے ہوئے تجھ سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ ہم میں سے جو فریق بھی ان دعاوی میں سچا ہے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اس پر دونوں جہان کی رحمتیں نازل فرما، اس کی ساری مصیبتیں دور کر، اس کی سچائی کو ساری دنیا پر روشن کر دے، اس کو برکت پر برکت دے اور اس کے معاشرہ سے ہر فساد اور ہر شر کو دور کر دے اور اس کی طرف منسوب ہونے والے ہر بڑے اور چھوٹے ، مرد عورت کو نیک چلنی اور پاکبازی عطا کر اور سچائی تقویٰ نصیب فرما اور دن بہ دن اس سے اپنی قربت اور پیار کے نشان پہلے سے بڑھ کر ظاہر فرما تاکہ دنیا خوب دیکھ لے کہ تو ان کے ساتھ ہے اور ان کی حمایت اور ان کی پشت پناہی میں کھڑا ہے اور ان کے اعمال، ان کی خصلتوں اور اٹھنے اور بیٹھنے اور اسلوب زندگی سے خوب اچھی طرح جان لے کہ یہ خدا والوں کی جماعت ہے اور خدا کے دشمنوں اور شیطانوں کی جماعت نہیں ہے۔اور اے خدا! تیرے نزدیک ہم میں سے جو فریق جھوٹا اور مفتری ہے اس پر ایک سال کے اندر اندر اپنا غضب نازل فرما اور اسے ذلت اور نکبت کی مار دے کر اپنے عذاب اور قہری تجلیوں کا نشانہ بنا اور اس طور سے ان کو عذاب کی چکی میں ہیں اور مصیبتوں پر مصیبتیں ان پر نازل کر اور بلاؤں پر بلائیں ڈال کہ دنیا خوب اچھی طرح دیکھ لے کہ ان آفات میں بندے کی شرارت اور دشمنی اور بغض کا دخل نہیں بلکہ محض خدا کی غیرت اور قدرت کا ہاتھ یہ سب عجائب کام دکھلا رہا ہے۔اس رنگ میں اس جھوٹے گروہ کو سزا دے کہ اس سزا میں مباہلہ میں شریک کسی فریق کے مکر و فریب کے ہاتھ کا کوئی بھی دخل نہ ہو اور وہ محض تیرے غضب اور تیری عقوبت کی جلوہ گری ہو تا کہ بچے اور جھوٹے میں خوب تمیز ہو جائے اور حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر ہو اور ظالم اور مظلوم اور مظلوم کی راہیں جدا جدا کر کے دکھائی جائیں اور ہر وہ شخص جو تقویٰ کا بیج اپنے سینہ میں رکھتا ہر آنکھ جو اخلاص کے ساتھ حق کی متلاشی ہے اس پر معاملہ مشتبہ نہ رہے اور ہر اہلِ بصیرت پر خوب کھل جائے کہ سچائی کس کے ساتھ ہے اور حق کس کی حمایت میں کھڑا ہے۔(آمین یا رب العالمین) ہے اور پمفلٹ مباہلہ صفحہ 15 تا16) ضیاء الحق کی ہلاکت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا واضح اعلان اور امام مسجد فضل کی رؤیا: 12 اگست 1987ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ رابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ جنرل ضیاء الحق نے لفظاً، معنا، عملاً کسی شکل میں بھی احمدیوں پر کئے جانے والے مظالم پر پشیمانی کا اظہار نہیں کیا اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ہم اس کی فعلی شہادت کے منتظر ہیں۔لہذا آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا:۔اب جنرل ضیاء الحق اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے بچ کر نہیں جا سکتا اب واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں۔“ پانچ دن اور گزر گئے اگست کی سترہ تاریخ تھی لندن مسجد کے سابق امام جناب بی اے رفیق نے صبح ہی صبح ایک مکتوب حضرت خلیفة أمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھیجا جس میں انہوں نے اپنے خواب کی تفصیل بیان کی تھی جو انہوں نے اسی رات دیکھا تھا۔خواب میں انہوں نے دیکھا کہ وہ جنرل ضیاء الحق سے ملے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ (حضرت) خلیفہ رابع کو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔اس پر جنرل ضیاء الحق اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ان کی ٹھوڑی پکڑ کر بڑی درشتی سے ان کا 483