مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 449
اس خطر ناک حملہ کی شدت کا اندازہ لگانے کے لئے آرہ کے وہ بیانات بھی کافی رہنما ئی کرتے ہیں جو بعد کو ان کی زبانوں سے خود بخود جاری ہو گئے اور جن میں انہوں نے کھلا اعتراف کیا کہ شدھی کی تحریک صرف ملکانہ کے مسلم راجپوتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو ہندو دھرم کی چوکھٹ پر لا ڈالنے کے لئے اُٹھائی گئی ہے۔چنانچہ ایک آریہ سماجی راجکمار ایٹھی نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: بلا شدھی ہندو مسلم ایکتا (اتحاد) نہیں ہو سکتی۔جس وقت سب مسلمان شدھی ہو کر ہندو ہو جائیں گے تو ہندو ہی ہندو نظر آئیں گے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو آزادی سے نہیں روک سکتی۔“ دو تیج دہلی 20 مارچ 1925 صفحہ 6 بحوالہ ہندو راج کے منصوبے از ملک فضل حسین صاحب بار ہشتم ستمبر 1930ء صفحہ 138) سوا می دچارند نے گوروکل کانگڑی کی سلور جوبلی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: سب دھرموں سے ہمارا دھرم پرانا ہے تو ہمارے دھرم کے سامنے کسی کو ادھیکار (حق) نہیں کہ وہ شدھ کرے۔سوراج کیلئے ہند و مسلم ایکتا (اتحاد) ضروری ہے لیکن ہم کچی ایکتا شدھی میں مانتے ہیں جب تک بھارت ورش کے مسلمان اور عیسائی شدھ نہیں ہو جائیں گے اس وقت تک تم کو سوراج نہیں مل سکتا۔“ (پیغام صلح بحوالہ ہندو راج کے منصوبے از ملک فضل حسین صاحب بار ہشتم ستمبر 1930ءصفحہ 139،138) اسی موقع پر پنڈت لوک ناتھ جی نے کہا: اگر اس چھتری کو جس گو کی گردن پر چل رہی ہے، بند کرنا چاہتے ہو تو اس کا علاج شدھی ہے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اگر آپ ہمیشہ کیلئے کانٹے دار درخت کو مٹانا چاہتے ہیں تو اس کی جڑ نکال دو۔“ دو کام (پیغام صلح بحوالہ ہندو راج کے منصوبے از ملک فضل حسین صاحب بار ہشتم ستمبر 1930ءصفحہ 139،138) شدھی کا کبھی بند نہ ہونے پائے ہندوؤ! تم میں ہے گر جذبہ ایمان باقی بھاگ سے وقت یہ قوموں کو ملا کرتے ہیں رہ نہ جائے کوئی دنیا میں مسلمان باقی تیج دہلی 13 جنوری 1925 صفحہ 6 بحوالہ ہندو راج کے منصوبے از ملک فضل حسین صاحب بار ہشتم ستمبر 1930ء صفحہ 144 و تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 329و330) ت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان: مسلم پریس نے شدھی کے خلاف آواز تو مارچ 1923ء میں بلند کی مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 1923ء کے آغاز میں ہی اس فتنہ کی طرف توجہ فرمائی اور یہ معلوم ہوتے ہی کہ ایک قوم کی قوم ارتداد کیلئے تیار ہے۔فوراً دفتر کو ہدایت فرمائی کہ پوری تحقیق کریں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق پہلے مختلف ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی گئی، ضروری حالات معلوم کرنے کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھا یا گیا کہ فروری 1923 ء میں صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی اے اور ایک اور احمدی کو علاقہ ملکانہ میں ابتدائی سروے اور فراہمی معلومات کیلئے بھجوا دیا۔صوفی عبدالقدیر صاحب نے واپس آ کر مفصل بتایا کہ حالت بہت مخدوش ہے اور فوری تدارک کی ضرورت ہے۔“ 449