مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 430
کمیٹی کا مرتب کیا ہوا نہیں ہے۔میں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور ان طریقوں سے کیا جائے اس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جو مسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کریں، اللہ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے۔“ تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 515) احرار اور گورنمنٹ کے متعلق ججوں نے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں درج ذیل الفاظ اپنی رائے کا اظہار کیا: احراریوں سے تو ایسا برتاؤ کیا گیا گویا وہ خاندان کے افراد ہیں اور احمدیوں کو اجنبی سمجھا گیا۔احراریوں کا رویہ اس بچے کا ساتھا جس کو اس کا باپ کسی اجنبی کو پیٹنے پر سزا کی دھمکی دیتا ہے اور وہ بچہ یہ جان کر کہ اسے سزا نہ دی جائے گی اجنبی کو پھر پیٹنے لگتا ہے اس کے بعد چونکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس لئے باپ محض پریشان ہو کر بیٹے کو مارتا ہے لیکن نرمی سے تا کہ اسے چوٹ نہ لگے۔“ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو صفحہ 422) اس تحریک میں حصہ لینے والے سب کے سب اپنے انجام کو پہنچے۔بہت سے مولوی جیلوں میں بند کردیئے گئے، ختم نبوت کے نام پر جمع ہونے والوں میں روپے کا جھگڑا شروع ہو گیا، ایک دوسرے پر الزام لگائے اور کفر کے فتوے لگائے گئے، مولوی اختر علی خان خلف مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار نے تحریک میں خوب روپیہ اکٹھا کیا لیکن یہ ڈھنگ دولت ان کے ہاتھ سے انجام کار جاتا رہا اور ایسی گمنامی کی حالت میں مرے کہ جنازے میں ہیں تھیں لوگ بھی نہ تھے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب لیڈر احرار جب فالج کی وجہ سے بیمار پڑے تھے تو خود اپنے متعلق کہتے ہیں: ”جب تک یہ کتیا (یعنی ان کی زبان۔ناقل ) بھونکتی تھی سارا بر صغیر ہندو پاک ارادتمند تھا۔اس نے بھونکنا چھوڑ دیا ہے تو کسی کو پتہ ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں۔“ تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 529) دوسری طرف اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اپنے وعدوں کے مطابق بے انتہا ترقی عطا فرمائی اور اس مخالفانہ تحریک کے بعد تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے یہ تحریک جماعت کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے چلائی گئی تھی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیشگوئی کہ خدا میری مدد کے لئے دوڑا چلا آرہا ہے لفظ بلفظ پوری ہوئی۔خلافت ثالثہ کے متعلق پیشگوئی: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا: ”میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔۔اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔“ تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 161) ساری دنیا جانتی ہے کہ خلافت ثالثہ میں یہ پیشگوئی خلافت ثالثہ کے حق میں حرف بہ حرف پوری ہوئی۔خلافت احمدیہ کے خلاف تیسری تحریک اور اس کا انجام : خلافت احمدیہ کے خلاف تیسری تحریک کا بڑا کردار مسٹر ذو الفقار علی بھٹو تھا۔اس نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے بطور وزیر اعظم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بھٹو کی ان کوششوں کے پس پردہ اس 430