مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 398 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 398

ہے ” دل فضل عمر فاؤنڈیشن کے درخت کو پروان چڑھتا دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر کہ اس نے فاؤنڈیشن کے درخت کو حوادث سے محفوظ رکھا اور اسے پھل دینے کے قابل بنایا۔دراصل اب فاؤنڈیشن کے لیے عطایا جمع کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے اور اب دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔یہ دوسرا دور درخت کی خاطر خواہ حفاظت کا دور ہے تا کہ یہ درخت خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ پھل دیتا چلا جائے۔دفتر فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام: (25 مئی 1969ء بحوالہ سالانہ رپورٹ فضل عمر فاؤنڈیشن و حیات ناصر جلد 1 صفحہ 516 تا517) سب سے پہلا کام فضل عمر فاؤنڈیشن کے دفتر کا قیام کے قیام کا تھا۔صدر انجمن احمدیہ کے احاطہ میں نوے سال کے لیے زمین پٹہ (Lease) پر لے کر دفتر کی عمارت تعمیر کی گئی ، حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے 6 اگست 1966ء کو دفتر کی بلڈنگ کا سنگِ بنیاد رکھا اور 15 جنوری 1967ء کو فاؤنڈیشن کے صدر چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب نے دفتر کا افتتاح فرمایا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے چند مزید ثمرات حیات ناصر جلد 1 صفحہ 518 حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 4 جولائی 1980 ء کو مسجد نور فرینکفورٹ (Frankfurt West Germany) میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے میری طرف سے فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ پیش ہوا جماعت نے اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق اس میں حصہ لیا۔اس کے تحت بعض بنیادی نوعیت کے کام انجام دیئے گئے یہ گویا ابتدا تھی ان منصوبوں کی جو اخدائی تدبیر کے ماتحت غلبہ اسلام کے تعلق میں جاری ہوئے تھے۔“ چنانچہ جو بنیادی کام اس فنڈ کی آمد کے سرمایہ سے سر انجام دیئے گئے ان کا تعلق زیادہ تر ان کاموں سے ہے جن سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو خاص دلچسپی تھی اور وہ درج ذیل ہیں: ( )) سوانح فضل عمر : جس مقدس وجود کی یاد میں فضل عمر فاؤنڈیشن قائم کی گئی تھی اس کی سوانح پر کسی مستند کتاب کا ہونا ضروری تھا چنانچہ یہ لکھنی کام فاؤنڈیشن نے اپنے ذمہ لیا اور ایک نگران بورڈ کے مشوروں سے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (جو بعد میں خلافت رابعہ کے منصب جلیلہ سے سرفراز ہوئے) نے لکھنی شروع کی۔اس کا پہلا حصہ خلافت ثالثہ میں شائع ہوا دوسرے حصہ کا مسودہ خلافت ثالثہ میں مکمل ہوا لیکن اشاعت بعد میں ہوئی۔(حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 518 تا519) نوٹ:۔اور اب مزید اسی فاؤنڈیشن کے تحت خلافت رابعہ میں سوانح فضل عمر کی پانچ جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو کہ اسی تحریک کا ثمرہ ہے۔398