مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 320
ایک کمرہ میں لے گیا جہاں مختلف اشیا پڑی ہیں۔کمرہ کے وسط میں ایک پان کی شکل کا پتھر ہے جیسے دل ہوتا ہے اس پتھر پر لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا ہوا ہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قوم اگر چہ اوپر سے پتھر دل ہے یعنی دین سے بے گانہ نظر آتی ہے مگر اس کے دلوں میں اسلام قبول کر نے کی صلاحیت موجود ہے۔“ ہوئے فرمایا: حیات ناصر جلد 1 صفحہ 102) چنانچہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1973ء کے دورہ جرمنی میں ٹیلی ویژن کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے آئندہ پچاس سال تک انشاء اللہ جرمن قوم اسلام قبول کر لے گی۔اسلامی نقطہ نگاہ اور سائنسی ترقی میں باہم کوئی تضاد نہیں اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن اسلام ضرور یورپ میں پھیل کر رہے گا آئندہ زمانہ اگر آپ نہیں تو آپ کے بچے ضرور اسلام قبول کریں گے۔میں نے عرصہ ہوا خواب میں دیکھا کہ جرمن قوم کے دلوں پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ لکھا ہوا ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہ قوم بالآخر ضرور مسلمان ہوگی۔“ الفضل ربوہ 27 ستمبر 1973 ء) ایناں دیواں گا کہ تو رج جاویں گا حضرت خلیفۃ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 18 مارچ 1966ء بمقام ربوہ میں فرمایا: گزشتہ رات بارہ ساڑھے بارہ بجے تک مجھے یہ توفیق ملی کہ میں دوستوں کے خطوط پڑھوں اور اس کے ساتھ ساتھ لکھنے والوں کے لئے دعا بھی کروں۔پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق بھی عطا کی کہ میں اپنی کمزوری نا توانی اور بے مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے طاقت مانگوں۔ہمت طلب کروں اور توفیق چاہوں تا اس نے جو ذمہ داریاں مجھ پر ڈالی ہیں انہیں صحیح رنگ میں اور احسن طریق میں پورا کر سکوں۔پھر میں نے جماعت کی ترقی اور احباب جماعت کے لیے بھی دعا کی توفیق پائی۔صبح جب میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا که ایناں دیواں گا کہ تو رج جاویں گا قرآنی انوار کا عالمی انتشار: حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 5۔اگست 1966ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: (روزنامه الفضل ربوہ 23 مارچ 1966ء ) کوئی پانچ ہفتے کی بات ہے۔۔۔۔۔۔ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کر دیتی ہے اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس نور کا ایک حصہ جیسے جمع ہو رہا ہے۔پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی: بشرى لَكُمْ۔یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے اس کی 320