مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 201 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 201

السلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک عظیم وعدہ یہ بھی دیا ہے کہ حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد جماعت احمدیہ اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتی رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے رسالہ الوصیت میں اسے قدرت ثانیہ یعنی خلافتِ حقہ قرار دیا ہے۔چونکہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اس پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ علیہ السلام بہر حال انسان ہیں ایک وقت میں آپ علیہ نے اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے کیا آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت اس مجسم قدرت سے محروم ہو جائے گی؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمیا کہ نہیں جماعت اس سے محروم نہیں ہو گی۔آپ علیہ نے اس خوف کو دور کرنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت سنائی کہ میرے بعد بھی جماعت میں اللہ تعالیٰ کی قدرتیں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی رہیں گی اور یہ سلسلہ جب تک کہ جماعت احمدیہ پر قیامت نہیں آجاتی اور روحانی طور پر یہ جماعت مردہ نہیں بن جاتی ( وَالعَاذُ بِاللهِ ) اس وقت تک یہ جماعت خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتی رہے گی۔“ السلام (خطاب فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث 29اکتوبر 1969ء مشعل راه جلد 2 صفحہ 210) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ۔۔۔اب آئندہ انشاء اللہ تعالی خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا، جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں، اور کوئی دشمن آنکھ، کوئی دشمن دل، کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمد یہ انشاء اللہ تعالٰی اسی شان کے ساتھ نشو و نما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں، حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں۔“ (خطبہ جمعہ 18 جون 1982 بحوالہ خطبات طاہر جلد 1 صفحہ 19-18) ارشاد حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز : دو کے حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: یہ قدرت ثانیہ یا خلافت کا نظام اب انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے اور اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ خلفا کے زمانہ کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ 30 سال تھی تو وہ 30 سالہ دور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تھا اور یہ دائی دور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔66 (خطبه جمعه فرمودہ 27 رمئی 2005 ء - الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 جون 2005ء) 201