مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 152
ایسے لوگوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا جو آ آ کر خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔اس زمانہ ہی کو دیکھو کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کا وعدہ کیسا سچا اور صحیح ثابت ہوا اس کا رحم اس کا فضل اور انعام کس کس طرح دستگیری کرتا ہے مگر انسان کو بھی لازم ہے کہ خود بھی قدم اٹھاوے یہ بھی ایک سنت اللہ چلی آتی ہے کہ خلفا پر مطاعن ہوتے ہیں۔آدم پر مطاعن کرنے والی خبیث روح کی ذریت بھی اب تک موجود ہے، صحابہ کرام پر مطاعن کرنے والے روافض اب بھی ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو تمکنت دیتا ہے اور خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔اسی حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ نمبر 25-224) مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فرمان کے وقت نافرمانی کی جاوے تو پھر اسلام کا مفہوم نہیں رہتا۔قرآن بھی یہی کہتا ہے: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ط وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (سورة النور: 56) ) یہاں بھی ان خلفا کے منکروں پر لفظ کفر کا ہی آیا ہے کیونکہ وہ تو حکم الہی ہے جس رنگ میں ہو جو اس سے نافرمانی کرے گا وہ نافرمان ہوگا میں اس چھت کے نیچے بیٹھا ہوں اگر مجھے اللہ تعالیٰ ابھی حکم دے کہ اُٹھ جاؤ اور میں نہ اُٹھوں تو میں نافرمان ہوں گا۔اگر یہ چھت گرے اور میں مر جاؤں تو اس نافرمانی کی سزا ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کیا میں تو کہتا ہوں کہ خدا کے کسی ایک حکم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں کی کسی ایک نافرمانی سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ نمبر 228) ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وعدہ اور پیشگوئی کے موافق جو استثناء کے 18 باب میں کی گئی تھی۔مثیل موسیٰ ہیں اور قرآن نے خود اس دعوی کو لیا۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : 16)۔اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ٹھہرے اور خلفائے موسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفائے محمد یہ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورۃ نور میں فرمایا: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ پھر کیا چودھویں صدی موسوی کے خلیفہ کے مقابل پر چودھویں صدی ہجری پر ایک خلیفہ کا آنا ضروری تھا یا نہیں؟ اگر انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا جاوے اور اس آیت وعدہ کے لفظ كَمَا پر پورا غور کر لیا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ موسوی خلفا کے مقابل پر چودہویں صدی کا خلیفہ خاتم الخلفا ہو گا اور مسیح موعود ہو گا۔اب غور کرو کہ عقل اور نقل میں تناقض کہاں ہوا؟ عقل نے ضرورت بتائی۔نقل صحیح بھی بتاتی ہے کہ اس وقت ایک مامور کی ضرورت ہے اور وہ خاتم الخلفاء ہو گا اس کا نام مسیح موعود ہونا چاہیے پھر ایک مدعی موجود ہے وہ بھی یہی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس کے دعوی کو راست بازوں کے معیار پر پرکھ لو۔“ ( حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ نمبر 230 تا 231) حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اسی موضوع پر مزید فرمایا: دنیا کے مذاہب کی حفاظت کیلئے مُؤيَّد مِنَ اللهِ ، نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے۔اسلام کے اندر کیسا فضل اور 152