مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 141
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ حدیث مبارکہ: (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) عَنْ حُذِيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةٌ فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 273 مشکوۃ بَابُ الْإِنْذَارِ وَالتَّحْذِيرِ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت عَلى مِنْهَاج النُّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ سے متعلق سفرنگ دساتیر کی پیشگوئی: ہے۔زرتشتی مذہب کے صحیفہ دساتیر میں دین زرتشت کے مجدد ساسانِ اوّل کی درج کردہ ایک پیش گوئی درج کی جاتی اس پیش گوئی کے اصل الفاظ تو پہلوی زبان میں ہیں جسے زرتشتی اصحاب نے فارسی زبان میں ڈھالا ہے۔چنانچہ فارسی میں اس پیش گوئی کے الفاظ درج ذیل ہیں: چوں ہزار سال تازی آئین را گزر د چناں شود آن آئین از جدائی ہا کہ اگر بائیں گر نمائند نداندش۔۔۔۔در افتد در هم و کنند خاک پرستی و روز بروز جدائی و دشمنی در آنها افزون شود۔۔۔۔۔پس شمایا بید خوبی ازین و اگر ماند یکدم از مہیس چرخ انگیزم از کسان تو کسے و آئین و آب تو به تو رسانم و پیغمبری و پیشوائی از فرزندان تو برنگیرم (سفر نگ دساتیر صفحه 190) ترجمہ: ” پھر ایک عرصہ بعد ان کی آپس میں خانہ جنگی شروع ہو گی اور خاک پرستی شروع کر دیں گے (جیسے شیعہ اصحاب کربلا کی مٹی کی ٹکیہ سامنے رکھ کر نماز پڑھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں اور دوسرے لوگ قبر پرستی کرتے ہیں) اور روز بروز ان میں دشمنی اور جدائی بڑھتی چلی جائے گی۔پس تمہیں اس سے فائدہ پہنچے گا۔اور اگر زمانہ میں ایک روز بھی باقی ہو گا تو کسی کو تیرے فرزندوں (فارسی الاصل) میں سے کھڑا کروں گا جو 141 +1