مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 485 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 485

لاپتہ ہو چکا تھا۔چھ میل دور دریا کے کنارے کسان کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔انہوں نے ایک ہوائی جہاز کو ہوا میں ڈگمگاتے ہوئے دیکھا جو لہروں کے نرغے میں پھنسی ہوئی سمندری کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہا تھا۔تیسری قلابازی کھانے کے بعد طیارہ سیدھا زمین پر آرہا۔گرتے ہی ریتلی زمین میں پھنس گیا اور ایک دھماکے کے ساتھ شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔اکتیس کے اکتیس آدمی جو طیارے میں سفر کر رہے تھے آن کی آن میں لقمہ اجل بن گئے۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سب زمین پر گرنے سے پہلے ہی سفر آخرت پر روانہ ہو چکے ہوں۔حادثہ جہاز کے پرواز کرنے کے ٹھیک پانچ منٹ کے اندر تین بج کر اکیاون منٹ پر وقوع پذیر ہوا۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوسرے دن کے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ: ”خدا نے فیصلہ کر دیا۔“ یہ خاص خدا تعالیٰ کا قہری نشانہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی خاص تائید سے ظاہر ہوا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے جنرل ضیاء الحق کی بیگم اور دیگر افراد خاندان کے نام تعزیت کا پیغام بھیجا کہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے احمدی اس سانحہ پر خوش ہیں اس لئے نہیں کہ کوئی مر گیا ہے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی تائید اور سچائی کی فتح مبین کا نظارہ کیا ہے یہ نصرت الہی کا ایک آسمانی نشان جو ہمیں دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں ہماری آئندہ نسلیں اس واقع کو فخر کے ساتھ یاد کیا کریں گی کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کے آباؤ اجداد کی مدد کے لئے آسمان سے زمین پر اُترا۔“ حادثہ کی تحقیق کرنے والی ٹیم نے بھی حضور رحمہ اللہ تعالٰی کی اس بات کو سو فیصد سچ ثابت کر دیا کہ اس حادثہ میں انسانی ہے (1 (2 (3 ہاتھ کار فرما نہیں بلکہ ٹیم نے حادثہ کے امکانی اسباب کو ایک ایک کر کے واضح کر دیا۔مثلاً انہوں نے کہا: جہاز پر کوئی دھما کہ خیز مادہ نہیں تھا کیونکہ تباہ شدہ جہاز کا ملبہ دور دور تک پھیلا ہوا نہیں تھا، جہاز کسی آتشی میزائل کا ہدف بھی نہیں بنا ورنہ اس کے ایلومینیم کے خول پر اس کا نشان ہوتا، حادثہ آگ لگنے سے بھی نہیں ہوا کیونکہ امریکن ملٹری مشن کے سربراہ جنرل ولیم کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ وہ حادثہ کے نتیجے میں جلنے سے نہیں بلکہ اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، (4) نہ ہی انجنوں کی خرابی سے یہ حادثہ رونما ہوا کیونکہ تفتیش سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ طیارہ جس وقت زمین پر ٹکرایا اس کے انجن پوری رفتار سے چل رہے تھے، (5 (6 ایندھن میں بھی کسی قسم کی آلودگی نہیں پائی گئی، جن کل پرزوں کی مدد سے جہاز کا کپتان جہاز اڑاتا ہے یعنی کنٹرول، اس میں بھی تخریب کاری کا کوئی نشان نہیں ملا بلکہ اس پاک ون ہر کولیس طیارے میں تو کنٹرول کے تین سسٹم تھے اور تفتیشی ٹیم کی رائے میں تینوں سسٹم درست حالت میں تھے۔اب صرف یہی امکان رہ گیا تھا کہ پائلٹ یا شاید کبھی مسافر یکا یک بے ہوش ہو گئے تھے۔تحقیقاتی ٹیم یہ نہیں بتلا سکی کہ یہ حادثہ آخر ہوا کیسے؟ لیکن اتنا تو سب جانتے ہیں کہ یہ حادثہ کیوں ہوا؟ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جنرل ضیاء الحق کو خدا تعالٰی کے قہر اور غضب سے خبردار کیا تھا لیکن ضیاء الحق نے اس تنبیہ کو درخور اعتنا نہ سمجھا پس زمین و آسمان کے مالک کی قہری تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیے اور ان جرنیلوں کو بھی تباہ و برباد کر دیا جو اقتدار کے اس بے جا اور بے محابا استعمال میں اس کے دست و بازو تھے۔ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ نمبر 358 تا 386) 485