مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 460 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 460

(سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 89 تا 91) پھر حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ زندگی پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی تحریر و تقریر دونوں میں بکثرت عیسائی عقائد کا رڈ فرمایا ہے۔مثلاً 1978 ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے عیسائیت کا بطلان ثابت کرنے کیلئے یورپ کے ملک برطانیہ میں ایک عظیم کانفرنس کا انعقاد فرمایا اور اپنے بصیرت افروز لیکچرز ثابت کر دیا کہ اسلام ہی دین حق ہے اور نجات صرف اسلام سے وابستہ ہونے سے ہی ممکن ہے۔پھر 1980ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مغرب کے دورہ کے لئے روانہ ہوئے جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یورپ امریکہ و افریقہ کے کئی ممالک کے نہایت کامیاب دورے فرمائے مجالس سوال و جواب منعقد فرمائیں۔مثلاً انگلستان کا دورہ کرتے ہوئے 14 اگست 1980ء کو احمد یہ مشن ہاؤس انگلستان نے کیفے رائل ہوٹل پکاڈلی میں نہایت وسیع پیمانہ پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خطاب فرما کر اسلام کے خلاف پھیلی ہوئی کئی غلط فہمیوں کا نہایت مؤثر رنگ میں ازالہ فرمایا اس پر ہجوم کانفرنس میں مختلف ایجنسیوں اور کارپوریشنوں کے 60 سے زائد رپورٹروں اور فوٹو گرافروں نے اسلامی تعلیمات پر اعتراضات کے رنگ میں سوالات کی بوچھاڑ کرنے کی غرض سے شرکت کی، وہ اپنے سوالات میں اسلام کو ظلم و تعدی اور بربریت کا مذہب ثابت کرنا چاہتے تھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان سوالات کے نہایت مدلل اور برجستہ جواب دے کر قرآنی آیات کی رُو سے ثابت کیا کہ اسلام جبر کا نہیں بلکہ ایک نہایت پر امن مذہب ہے۔حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور مستشرقین کا رڈ: دوره مغرب صفحه 283 و 284) حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی مقدس حیات بھی ہمیں مستشرقین کے خلاف ایک فتح نصیب جرنیل کی زندگی نظر آتی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتب کے علاوہ رمضان کے دروس القرآن میں خاص طور پر عیسائی مستشرقین کو آڑے ہاتھوں لیا او اسلام کا زبردست دفاع کیا ہے۔مثلاً منٹگمری واٹ (Montgomery Watt) جو ایک نہایت متعصب مستشرق ہے اس کے تعدد ازدواج پر کئے گئے انتہائی بے ہودہ اعتراضات کا نہایت شاندار جواب 4 رمضان 25 جنوری 1996ء کے درس القرآن میں دیا ہے۔اسی طرح جیمز اور ویل نے بھی تعدد ازدواج پر اعتراضات کئے جن کا تفصیلی اور دندان شکن جواب حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 6 رمضان 27 جنوری 1996ء کے درس القرآن میں دیا ہے۔پھر مستشرقین کے اس اعتراض کا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے کا نہایت علمی اور محققانہ جواب اپنے 17 رمضان 7فروری 1996 ء کے بیان فرمودہ درس القرآن میں نہایت تفصیل سے دیا ہے۔اس کے علاوہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ حیات پر لگائے جانے والے بہتانوں اور تہمتوں کا نہ صرف رڈ فرمایا بلکہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے عیسائیت کو فطری قوتوں کے منافی مذہب قرار دیا خاص طور پر عیسائیت کی راہبانہ تعلیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔اس کے علاہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جیفرے ہیگن و سیری، مارگولیس، ولیم میور، اور زونڈ یکی جیسے مستشرقین کے مختلف اعتراضات کے تفصیلی جواب دیئے۔ویمبلے (Wambley) کانفرنس: ویمبلے کانفرنس (Wambley Conference) کے لئے تحریک: 460