مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 391
ج دینی تعلیم : محض نماز باجماعت کے قیام تک ہی معلمین کی سرگرمیاں محدود نہیں بلکہ نماز ناظرہ یاد کروانا، نماز کا ترجمہ سکھانا، قرآن کریم کی سورتیں حفظ کروانا اور دیگر دینی مسائل کی تعلیم دے کر ان کے ایمان اور عمل کو زیور علم - آراستہ کرنا بھی معلم کے فرائض میں داخل ہے۔معلمین کی انہی نیک کوششوں سے متاثر ہو کر مختلف صدر " صاحبان ہمیں اپنی خوشنودی سے مطلع فرماتے رہتے ہیں۔مثلاً ایک جماعت کے صدر لکھتے ہیں: معلم نے ساری جماعت کی نماز درست کروائی ہے اور خاص کر بچوں کی نماز کی درستگی کی ہے۔جماعت کے تمام افراد کو نماز باترجمہ یاد کروائی ہے اور نماز سے متعلق تمام مسائل بھی یاد کروائے ہیں اور قرآنی دعائیں بھی یاد کروائی ہیں۔ترجمہ قرآن کریم سکھایا جا رہا ہے اور دوسرے پارہ تک قرآن مجید کا ترجمہ مردوں، عورتوں اور بچوں نے پڑھ لیا ہے۔" ایک اور جماعت کے صدر صاحب اعداد و شمار میں معلم کے کام کی رپورٹ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: معلم کی کوشش سیارہ چودہ عورتیں اور بائیسچے نماز سیکھ چکے ہیں اور دس مرد، آٹھ عورتیں اور نو بچے نماز کر ترجمہ سیکھ چکے ہیں۔“ اس وقت 200 سے زائد واقفین معلمین میدان عمل میں خدمات بجا لا رہے ہیں۔“ (سوانح فضل عمره جلد 3 صفحہ 354 و 355) اللہ کے فضل و کرم سے خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں سال 2005 ء تک وقف جدید کی کل مالی وصولی اکیس لاکھ بیالیس ہزار پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کی نسبت دو لاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے اور وقف جدید کے شاملین کی تعداد چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار ہے۔ان میں امسال 51 ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔(خطبه جمعه فرمودہ 6 جنوری 2006ء از حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ الفضل انٹرنیشنل مورخہ 27 جنوری تا 2 فروری 2006 ء) بعض اہم تحریکات: -1 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی چالیس روز تک خصوصی دعاؤں کی تحریک: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کی روحانی و جسمانی ترقی کیلئے یکے بعد دیگرے متعدد تجاویز و تحریکات پیش فرمائیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مبارک معمول کے مطابق یہاں بھی دعاؤں کو اولیت کا مقام حاصل رہا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 8 مارچ 1944 ء سے چالیس روز تک خاص دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی اور پھر چند روز بعد ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تسبیح و تمہید اور درود شریف پڑھنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔ہر احمدی یہ عہد کرے کہ وہ روزانہ بارہ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِیمِ پڑھ لیا کرے گا اسی طرح دوسری چیز جو اسلام کی ترقی کے لیے ضروری ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا دنیا میں وسیع ہونا ہے اور ان برکات اور فیوض کو پھیلانے کا بڑا ذریعہ درود ہے۔بے شک ہر نماز میں تشہد کے وقت درود پڑھا جاتا ہے مگر وہ جبری درود ہے اور جبری درود اتنا فائدہ نہیں دیتا جتنا اپنی مرضی سے پڑھا ہوا درود انسان کو فائدہ دیتا ہے۔وہ درود بے شک نفس کی ابتدائی صفائی کے لئے ضروری وو 391