مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 366 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 366

بھی پروا نہ کی۔گاڑی اپنی رفتار سے دوڑتی تھی اور احباب ساتھ ساتھ دوڑتے اور مصافحہ کرتے تھے وہ وقت خطرہ کا تھا اگر ایک ہی آدمی ہوتا تو ممکن تھا خطرہ کم ہوتا مگر جب ایک کثیر تعداد دوڑتی ہوئی جارہی ہو تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے دھکا کا بھی خطرہ ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس روح کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی جب تک کوئی قوم کوئی جماعت اپنے اندر یہ شعور پیدا کر کے یہ فیصلہ نہیں کر لیتی کہ وہ اپنے امام کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے انشراح تام رکھتی ہے اس وقت تک اس کی کامیابی اور ترقی کا خیال ایک موہوم خیال ہو تا ہے۔بہر حال یہ نظارہ محبتِ امام کا ایک پیارا منظر تھا جس کے ساتھ دیکھنے والوں کے لئے خوفناک منظر تھا اور خطرہ تھا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔مگر یہ جماعت مخلصین دوڑتی رہی جب تک پلیٹ فارم ختم نہ ہو گیا اور ریل کی تیز رفتاری نے اسے پیچھے نہ ڈال دیا۔پائدانوں پر جو جماعت تھی وہ کھڑی رہی۔آپ رضی اللہ عنہ کی گاڑی کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے کسی کو اندر آنے سے روکنے نہیں دیا۔یہ اسی محبت کا نتیجہ تھا جس سے یہ کشش اور جذب لوگوں میں پیدا ہوا۔حقیقت میں آپ کی اسی محبت کی تاریں ہی تو تھیں جو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔۔۔گرمی کا موسم ہے اور ہجوم کا صحت پر برا اثر پڑتا ہے مگر باوجود اس کے نہایت خوشی اور خندہ پیشانی سے مخلوق کو اندر جمع کر رہے ہیں یہ حقیقت ہے اس امر کی کہ محبت محبت کو پیدا کرتی ہے۔“۔۔۔۔۔۔(سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ: 483 484 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب 1924ء میں سفر یورپ پر تشریف لے گئے۔احباب جماعت جس طرح اس عارضی جدائی پر بے قرار بے چین ہوئے اس کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے: بابو سراج الدین صاحب سٹیشن ماسٹر لکھتے ہیں: ”میرے آقا ! ہم دور ہیں مجبور ہیں۔اگر ممکن ہوتا تو حضور کے قدموں کی خاک بن جاتے تاکہ جدائی کے صدمے نہ سہتے۔آقا! میں چار سال سے دارالامان نہیں گیا تھا مگر دل کو تسلی تھی کہ جب چاہوں گا حضور کی قدم بوسی کر لوں گا لیکن اب ایک دن ہو رہا ہے۔اللہ پاک حضور کو بخیر و عافیت، مظفر و منصور جلدی واپس لائے مشکل (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ: 475 ) انگریزی اخبار ٹریبیون (Tribune) میں امرتسر کے نامہ نگار کے حوالہ سے 3 جون 1930 ء کو ایک جھوٹی خبر شائع ہوئی کہ امام جماعت احمدیہ (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) کا اچانک انتقال ہو گیا ہے یہ جھوٹی خبر جماعت پر غم و اندوہ کا پہاڑ بن کر گی چنانچہ حضرت یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو دوست میں جو راستہ پر بیٹھتا ہوں ان آنے والوں کو دیکھتا تھا کہ وہ محبت اور اخلاص کے پیکر ہیں۔انہیں دورانِ سفر میں اس خبر کا افترا ہونا کھل چکا تھا مگر ان کی بے قراری ہر آن بڑھ رہی تھی اور یہ صرف اعجاز محبت تھا یہ اپنی اسی بے قراری میں قصرِ خلافت کی طرف بھاگے جا رہے تھے میں نے دیکھا بعض ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے اس سفر میں نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ان طبعی تقاضوں پر بھی محبت کا غلبہ تھا۔جب تک قصر خلافت میں جاکر انہوں نے اپنے امام کو دیکھ نہ لیا اور مصافحہ اور معانقہ کی سعادت حاصل نہ کرلی ان کے دلِ بے قرار کو قرار نہ آیا۔“ الفضل 15 جون 1930ء صفحہ 7) 366