مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 222
غرضیکہ احمدیوں کو بڑی قربانیاں دینا پڑیں۔حضرت خلیفہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالی کو پہلے تحقیقاتی ٹربیونل میں بیان دینے کے لئے لاہور طلب کیا گیا اور پھر جرح کے لئے پاکستان قومی اسمبلی میں اسلام آباد بلایا گیا۔کئی روز کی جرح کے دوران حضور رحمہ اللہ تعالٰی نے جماعت احمدیہ کے عقائد کی خوب ترجمانی فرمائی۔جماعت کے لئے یہ بہت نازک وقت تھا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ جماعت کی دلداری فرماتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل کئی کئی راتیں جاگ کر مناجات کرتے رہے اور مخالفت اور ظلم و تشدد کے طوفان کے آگے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہوگئے اور اپنی دعاؤں اور اولوالعزمی سے اس طوفان کا رُخ موڑ دیا۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت احمدیہ کو آئینی اغراض کی خاطر غیر مسلم قرار دیا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا: "وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ“ کہ تم اپنے مکان وسیع کرو۔میں ان استہزا کرنے والوں کے لئے کافی ہوں۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو بھی مصیبت زدہ احمدی ملاقات کے لئے آتا حضور رحمہ اللہ تعالیٰ سے مل کر وہ تمام دُکھ بھول جاتا اور تعلق باللہ اور توکل اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بشارتوں کے نتیجہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے چہرے پر جو بشاشت تھی وہ ملاقات کے بعد ان کے چہروں پر بھی منتقل ہو جاتی اور وہ ہنستے مسکراتے باہر جاتے اور جو قربانیاں اللہ تعالیٰ ان سے لے رہا تھا ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔پاکستان قومی اسمبلی کے اس فیصلے کی کئی مسلمان حکومتوں نے توثیق کی اور عالمی سطح پر اس مسئلہ کو پہنچانے کی کوشش کی،اس موقع پر آپ حضرت مصلح موعود کو دی جانے والی اس خدائی بشارت کے مصداق ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ: میں تجھے ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا۔“ 1974ء کے مصائب سے اس طرح بچ نکلنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعا کا ثمرہ لگتا ہے جس میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے انصار دین کے لئے اپنے مولیٰ کے حضور جیسا کہ عرض کرتے ہیں۔کریما صد کرم کن ، بر کسے کو ناصر دیں است بلائے او بگرداں، گر گہے آفت شود پیدا اس طرح 1974ء سے جماعت احمدیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی وفات کا سانحہ: آخری خطاب: (حیات ناصر جلد 1 صفحہ 398 399 از محمود مجیب اصغر صاحب) 6 مئی 1982 ء کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی پندرہ روزہ تربیتی کلاس کے اختتامی خطاب فرمایا جو کسی جماعتی تنظیم سے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا آخری خطاب ہے۔گئے۔ربوہ میں آخری خطبہ جمعہ: 21 مئی 1982 ء کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ربوہ میں آخری خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور 23 مئی کو حضور اسلام آباد تشریف لے حضرت خلیفة أسبح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی علالت اور انتقال پر ملال 222