مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 96
بیان میں لکھا ہے کہ: " رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مشہور ہوتے ہی منافقین کی سازش سے مدینہ میں خلافت کا فتنہ کھڑا ہوا اور انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں مجتمع ہو کر خلافت کی بحث چھیڑ دی۔مہاجرین کو خبر ہوئی تو وہ بھی ہوئے اور معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وقت پر اطلاع نہ ہو جاتی تو مہاجرین اور انصار جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے باہم دست و گریبان ہو جاتے اور اس طرح اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو جاتا لیکن خدا کو تو حید کی روشنی سے تمام عالم کو منور کر نا تھا اس لیے آسمان اسلام پر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے مہر و ماه پیدا کر دیئے تھے جنہوں نے اپنی عقل و سیاست کی روشنی سے اُفق اسلام کی ظلمت اور تاریکیوں کو کا فور کر دیا۔وو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لئے ہوئے سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔انصار نے دعوئی کیا کہ ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔ظاہر ہے کہ اس دو عملی کا نتیجہ کیا ہوتا؟ ممکن تھا کہ مسندِ خلافت مستقل طور پر انصار کے سپرد کر دی جاتی لیکن وقت یہ تھی کہ قبائل عرب خصوصاً قریش ان کے سامنے گردنِ اطاعت خم نہیں کر سکتے تھے۔پھر انصار میں بھی دو گروہ تھے : اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا۔غرض ان وقتوں کو پیش نظر رکھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: " اُمرا ہماری جماعت سے ہوں اور وزرا تمہاری جماعت میں سے اس پر حضرت خباب رضی اللہ عنہ بن المنذر انصاری بول اٹھے، نہیں! خدا کی قسم نہیں! ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ جوش و خروش دیکھا تو نرمی و آشتی کے ساتھ انصار کے فضائل و محاسن کا اعتراف کر کے فرمایا: ”صاحبو ! مجھے آپ کے محاسن کا انکار نہیں لیکن درحقیقت تمام عرب قریش کے سوا کسی کی حکومت تسلیم ہی نہیں کر سکتا پھر مہاجرین اپنے تقدم اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی تعلقات کے باعث نسبتاً آپ سے زیادہ استحقاق رکھتے ہیں۔یہ دیکھو ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہ) بن الجراح اور عمر (رضی اللہ عنہ) بن خطاب موجود ہیں ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو۔“ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیش دستی کر کے خود حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا اور کہا: نہیں بلکہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں کیونکہ آپ ہمارے سردار اور ہم لوگوں میں سب سے بہتر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔“ چنانچہ اس مجمع میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی بااثر بزرگ اور معمر نہ تھا اس لئے اس انتخاب کو سب نے زیادہ استحسان کی نظر سے دیکھا اور تمام خلقت بیعت کے لیے ٹوٹ پڑی اس طرح یہ اٹھتا ہوا طوفان دفعتاً رُک گیا اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہوئے۔“ خلافت (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 40 تا41) (2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حفاظت منصب منصب خلافت کی حفاظت کی خاطر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نہایت درجہ حساسیت سے کام لیا۔چنانچہ اس ضمن 96