مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 95 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 95

شام، عراق وغیرہ مختلف ملکوں کی فوجیں مجمع تھیں جن میں زیادہ تر نومسلم اور عجمی النسل تھے جن کی مادری زبان عربی نہ تھی، حضرت حذیفہ بن یمان بھی شریک جہاد تھے انہوں نے دیکھا کہ اختلاف قرأت کا یہ حال ہے کہ اہل شام کی قرآت، اہل عراق سے بالکل جدا گانہ ہے اسی طرح اہل بصرہ کی قرآت اہل کوفہ سے مختلف اور ہر ایک اپنے ملک کی قرآت صحیح اور دوسرے کی غلط سمجھتا ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اس اختلاف سے اس قدر خلجان ہوا کہ جہاد سے واپس ہوئے تو سیدھے بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اور ر مفصل واقعات عرض کر کے کہا: ”امیر المومنین! اگر جلد اس کی اصلاح کی فکر نہ ہوئی تو مسلمان عیسائیوں اور رومیوں کی طرح خدا کی کتاب میں شدید اختلاف پیدا کر لیں گے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی خیال ہوا اور انہوں نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے عہد صدیقی کا مرتب و مدون کیا ہوا نسخہ لے کر حضرت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سعید رضی اللہ عنہ بن العاص سے اس کی نقلیں کرا کے تمام ملک میں اس کی اشاعت کی اور ان تمام مختلف مصاحف کو جنہیں لوگوں نے بطورِ خود مختلف املاؤں سے لکھا تھا، صفحہ ہستی سے معدوم کر دیا۔“ (4) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں اشاعت اسلام: (سیر اصحابہ جلد 1 - صفحه 231 تا 232) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بہت سی خدمات انجام دیں۔چنانچہ سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: امام وقت کا سب سے اہم فرض مذہب کی اشاعت تبلیغ اور خود مسلمانوں کو مذہبی تعلیم وتلقین ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ عہد نبوت ہی سے ان خدمات میں ممتاز تھے۔چنانچہ یمن میں اسلام کی روشنی ان ہی کی کوشش سے پھیلی تھی۔سورۂ برأة ( التوبة ) نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ و اشاعت کی خدمت بھی ان کے سپرد ہوئی۔مسند خلافت پر قدم رکھنے کے بعد سے آخر وقت تک گو خانہ جنگیوں نے فرصت نہ دی تا ہم اس فرض سے بالکل غافل نہ تھے۔ایران اور آرمینیہ میں بعض مسلم عیسائی مرتد ہو گئے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہایت سختی کے ساتھ ان کی سرکوبی کی اور ان میں سے اکثر تائب ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی نہایت سختی کے ساتھ خیال رکھا۔مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں۔“ (سیر الصحابہ۔جلد 1 صفحہ 306 تا 307) حفاظت منصب خلافت مقام خلافت کی حفاظت کرنا بھی استحکام خلافت کیلئے ضروری امر ہے۔چنانچہ اللہ تعالی کی طرف سے ایسے برگزیدوں کو مسند خلافت پر متمکن کیا گیا جنہوں نے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کی پروا کئے بغیر مقام و منصب خلافت کی حفاظت فرمائی جس سے خلافت کو استحکام نصیب ہوا۔(1 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حفاظت منصب خلافت: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیر الصحابہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعات کے 95