مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 85
85 سب کو باندھ کر میرے ہاتھ میں اکٹھا کر دیا یہ وہی بات ہے اور آیت استخلاف کی ایک تفسیر ہے کہ تم سب کو خدا نے خلیفہ بنایا اور پھر اپنی قدرت کے زور سے باندھ کر میرے ہاتھ پر تمہیں اکٹھا کر دیا ہے اس لئے اب میں خدا کا نمائندہ ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہی بات تفصیل سے بیان فرمائی اور حضرت خلیفہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اس بات کو یوں بیان کیا کرتے تھے۔جب بیرونی سفروں میں بعض لوگ سوال کیا کرتے تھے کہ جماعت میں خلیفہ کی کیا حیثیت ہے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ خلیفہ اور جماعت میں کوئی فرق نہیں۔ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔یہی وہ بات ہے جو آیت استخلاف کی روح سے تعلق رکھتی ہے اس لئے حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا مجموعی تقوی، جماعت احمدیہ کی مجموعی ذمہ داری وہ قوت ہے جو خلیفہ وقت کو حاصل ہوتی ہے اور اس قوت کا پھر ساری دنیا میں دوبارہ انتشار ہوتا ہے اس لئے اس طرف بڑی توجہ کی ضرورت ہے اور انفرادی معیار تقویٰ کو اس احساس ذمہ داری کے ساتھ بڑھانے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کو قرآن کریم کی یہ آیت خدا کا نمائندہ قرار دے رہی ہے اور جماعت کو من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ بنایا گیا اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس آیت میں اس کا جو نتیجہ ظاہر فرمایا گیا اگر یہ خلافت قائم ہو جائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ اس خلافت کو قائم فرمانا چاہتا ہے اس روح کے ساتھ قائم ہو جائے تو اس کے کچھ طبعی نتیجے نکلیں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنَّا ہے۔پہلے یہ رکھا کہ دین کو تمکنت نصیب ہو گی یعنی اگر تم اس دنیا میں واقعہ اللہ کے خلیفہ بن جاؤ گے تو تمہارے دین کو خدا تعالیٰ تمکنت عطا فرمائے گا۔دین کو تمکنت عطا کرنے کے کیا معنے ہیں۔عربی لغت کے لحاظ سے اقتدار کو تمکنت کہتے ہیں۔غلبہ کو تمکنت کہتے ہیں۔خوف کو دور کرنے اور امن میں آجانے کو تمکنت کہتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے یہ جو محاورہ استعمال کیا ہے: عِندَ ذِی الْعَرْشِ مَكِينٌ خدا تعالیٰ کے عرش کے پاس یعنی خدا تعالیٰ کی شان کے قریب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے اور یہ بے خوف مقام ہے۔ایسا مقام ہے جس میں غلبہ بھی شامل ہو جاتا ہے جس میں مقتدرت شامل ہو جاتی ہے جس میں بے خوفی شامل ہو جاتی ہے پس اصل میں تمکنت کا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے پھر آگے مؤمنین کی جماعت کو نصیب ہوتا ہے۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ اس مقام کے بعد پھر یہ کیوں فرمایا گیا: وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا جب تمکنت نصیب ہو جائے جو بظاہر خوف دور ہونے کے بعد نصیب ہونی چاہیے۔خوف دور ہونے کا مقام انسانی عقل جب سوچتی ہے تو تمکنت سے پہلے رکھتی ہے اس سے بھی معلوم یہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا یہ خاص اسلوب ہے اور بھی بہت سی جگہ اس قسم کے اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے کسی بندے کا کلام نہیں۔چنانچہ انسانی سوچ جو ترتیب مقرر کرتی ہے کلام الہی اس ترتیب کو بدل دیتا ہے۔انسانی سوچ کا جو بہترین حصہ ہے وہ بھی جب کوئی ترتیب سوچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس ترتیب کو بدل کر ایک نئی ترتیب میں ڈھال دیتا ہے اور اس وقت غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہی ترتیب درست ہے جو کلام الہی میں پیش کی گئی ہے اور کسی بندہ کا یہ کلام نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی صورت میں بیان فرمایا جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لئے کی تھی۔اس دعا میں یہ مانگا گیا تھا کہ اے خدا