مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 71 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 71

خلیفے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جاوے۔کیا وہ کتاب جو ہمیشہ کی سعادتوں کا دروازہ کھولتی ہے وہ ایسی پست ہمتی کا سبق دیتی ہے کہ کوئی برکت اور خلافت آگے نہیں بلکہ سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔نبی تو اس اُمت میں آنے کو رہے۔اب اگر خلفائے نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے اور پھر ایسے مذہب کو موسوی مذہب کی روحانی شوکت اور جلال سے نسبت ہی کیا ہے جس میں ہزار رہا روحانی چودہ سو برس تک پیدا ہوتے رہے اور افسوس ہے کہ ہمارے معترض ذرہ نہیں سوچتے کہ اس صورت میں اسلام اپنی روحانیت کے لحاظ سے بہت ہی ادنی ٹھہرتا ہے اور نبی متبوع صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کچھ بہت بڑا نبی ثابت نہیں ہوتا اور قرآن بھی کوئی ایسی کتاب ثابت نہیں ہوتی جو اپنی نورانیت میں قوی الاثر ہو پھر یہ کہنا کہ یہ امت خَيْرُ الأمم ہے اور دوسری اُمتوں کے لئے ہمیشہ روحانی فائدہ پہنچانے والی ہے اور یہ قرآن سب الہی کتابوں کی نسبت اپنے کمالات اور تاثیر وغیرہ میں اکمل و اتم ہے اور یہ رسول تمام رسولوں سے اپنی قوتِ قدسیہ اور تحمیل خلق میں اکمل و اتم ہے کیسا بے ہودہ اور بے معنی اور بے ثبوت دعوئی ٹھہرے گا؟ اور پھر یہ ایک بڑا فساد لازم آئے گا کہ قرآن کی تعلیمات کا وہ حصہ جو انسان کو روحانی انوار اور کمالات میں مشابہ انبیاء بنانا چاہتا ہے جو ہمیشہ کے لئے منسوخ خیال کی جائے گا کیونکہ جب کہ اُمت میں یہ استعداد ہی نہیں پائی جاتی کہ خلافت کے کمالات باطنی اپنے اندر پیدا کر لیں تو ایسی تعلیم جو مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے تاکید کر رہی ہے محض لا حاصل ہو گی۔در حقیقت فقط ایسے سوال سے ہی کہ کیا اسلام اب ہمیشہ کے لئے ایک مذہب مردہ ہے جس میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے جن کی کرامات معجزات کے قائم مقام اور جن کے الہامات وحی کے قائم مقام ہوں۔بدن کانپ اٹھتا ہے چہ جائیکہ کسی مسلمان کو نعوذ باللہ ایسا عقیدہ بھی ہو! خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کرے جو ان ملحدانہ خیالات میں اسیر ہیں۔(شهادة القرآن - روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 351 تا 356) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کفار کی شہادتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کہ وہ بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ اب یہ دین جلد تباہ ہو جائے گا اور ناپدید ہو جائے گا، ایسے وقتوں میں ان کو سنایا گیا کہ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْ بَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرَهَ الْكَافِرُونَ (سُورَةُ التَّوْبَةُ: 32 یعنی یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہو گی، یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔(سورة النور (66) یعنی خدا وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔“ مسلمانوں میں خلفا آتے رہیں گے: جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290) 71