مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 595 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 595

پر پھر ایک اور نشان یہ ہے جو یہ تین لڑکے جو موجود ہیں ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی معہ محمود کے نام کے موجود ہے جو پہلے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا۔جو رسالہ کی طرح کئی ورقوں کا اشتہار سبز (ضمیمہ انجام آنقم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 299) رنگ کے ورقوں پر ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہو گا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا۔اور اس پیشگوئی کی اشاعت کیلئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کے میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے۔66 (سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 36) چونتیسواں نشان یہ ہے کہ میرا ایک لڑکا فوت ہو گیا تھا اور مخالفوں نے جیسا کہ ان کی عادت ہے اس لڑکے کے مرنے پر بڑی خوشی ظاہر کی تھی تب خدا نے مجھے بشارت دے کر فرمایا کہ اس کے عوض میں جلد ایک اور پیدا ہو گا جس کا نام محمود ہو گا اور اس کا نام ایک دیوار پر لکھا ہوا مجھے دکھایا گیا تب میں نے ایک سبز رنگ کا اشتہار میں ہزار ہا موافقوں اور مخالفوں میں یہ پیشگوئی شائع کی اور ابھی 70 دن پہلے لڑکے کی موت پر نہیں گزرے تھے کہ یہ لڑکا پیدا ہو گیا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا۔“ لڑکا (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 227) حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت پیر منظور محمد رضی اللہ عنہ کے مطابق پیشگوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دوران اور بعد میں مسندِ خلافت متمکن ہونے کے بعد پورا وتوق اور یقین کامل رکھتے تھے کہ پسر موعود حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی ہیں۔چنانچہ پیر منظور محمد صاحب نے 10 ستمبر 1913 ء کو حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ: ” مجھے آج حضرت اقدس (مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات کو پڑھ کر پتہ چل گیا ہے کہ پسر موعود میاں صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد۔ناقل) ہی ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: " ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کس خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں۔“ حضرت پیر صاحب موصوف رضی اللہ عنہ نے یہی الفاظ لکھ کر تصدیق کیلئے پیش کئے تو حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے رقم فرمایا: یہ لفظ میں نے برادرم پیر منظور محمد سے کہے ہیں۔“ دو 595