مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 593 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 593

باتیں انسان کی باتیں نہیں یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیدائش: (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 181-182) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 12 جنوری 1889ء کو شرائط بیعت پر میں آپ نے اپنے دوسرے بیٹے بشیر الدین محمود احمد کی پیدائش کی خبر دی۔” خدائے عز و جل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی 1888 ء و اشتہار دسمبر 1888ء میں مندرج ہے اپنے لطف و سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہو گا اور اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہو گا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ہے۔سو آج 12 جنوری 1889ء میں مطابق 9 جمادی الاول 1306ھ روز شنبه میں اس عاجز کے گھر بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاول کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی آئے گی۔مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالٰی اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہو گا۔اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدئے عز و جل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کر لے۔مجھے ایک خواب میں اس موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا: بیعت تبلیغ شائع فرمایا جس مشتمل ایک اشتہار بعنوان " اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمده ز راه دور آمده پس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاول بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا اور ہمارے بعض حاسدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری کوئی ذاتی غرض اولاد کے متعلق نہیں اور نہ کوئی نفسانی راحت ان کی زندگی سے وابستہ ہے۔پس یہ ان کی بڑی غلطی ہے کہ جو انہوں نے بشیر احمد کی وفات پر خوشی ظاہر کی اور بغلیں بجائیں۔انہیں یقیناً یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہماری اتنی اولاد ہو جس قدر درختوں کے تمام دنیا میں پتے ہیں او وہ سب فوت ہو جائیں تو ان کا مرنا ہماری کچی اور حقیقی لذت اور راحت میں کچھ خلل انداز نہیں ہو سکتا۔ممیت کی محبت میت کی محبت سے اس قدر ہمارے دل پر زیادہ تر غالب ہے کہ اگر وہ محبوب حقیقی خوش ہو تو ہم خلیل اللہ کی طرح اپنے کسی پیارے بیٹے کو بدست خود ذبح کرنے تیار ہیں کیونکہ واقعی طور پر بجز اس ایک کے ہمارا کوئی پیارا نہیں۔جَلَّ شَآنُهُ وَعَزَّاسُمُهُ۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى اِحْسَانِه منه ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 160 و 161 حاشیہ) کامل انکشاف پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مصلح موعود کے متعلق نشاندہی: 593