مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 588
1886ء کو ہوشیار پور کی طرف سفر کیلئے روانہ ہوئے۔آپ علیہ السلام کے ساتھ تین افراد تھے۔آپ علیہ السلام نے جانے سے قبل ہوشیار پور میں اپنے دوست شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ مکان کا انتظام کر دیں۔چنانچہ میاں عبداللہ سنوری کی روایت مندرج سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 56-55 کے مطابق انہوں نے اپنا ایک مکان جو کسی وقت طویلہ کے کام آتا تھا خالی کر دیا۔ہوشیار پور پہنچ کر حضور علیہ السلام نے اس مکان کے بالا خانہ میں قیام فرمایا۔چنانچہ چالیس دن آپ علیہ السلام نے اس بالا خانہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور علیحدگی میں دعائیں کیں۔اس دوران میں آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض عظیم انکشافات ہوئے جن کی بنا پر آپ علیہ السلام نے ” اخبار ریاض ہند کو 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار لکھا جس میں آ السلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی عظیم الشان خوشخبری پیشگوئی مصلح موعود کی خبر دی۔الشان علیہ (ماخوذ از ” الموعود صفحه 11 تا13) 588 پیشگوئی مصلح موعود کے الفاظ : ” 20 فروری 1886ء به پایه پہلی پیشگوئی بالهام اللہ تعالیٰ و اعلامه عز و جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے (جل شَآنُهُ وَ عَزَّاسُمُهُ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لودھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذُریت و نسل ہو گا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے۔وہ نوراللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیح نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا، (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْهَرُ الاَوَّلِ وَالْآخِرِ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَاءِ كَاَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور