مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 581 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 581

مبارک کے مطابق کام کرنے کا پوری طرح اہل ثابت کر دکھایا تو 26 جولائی 1940 ء کو حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے مجلس انصاراللہ قائم فرمائی اور اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے مجلس انصار اللہ کی نسبت بعض ہدایات بھی دیں جن کے بارے میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں ان کے لئے بھی لازمی ہو گا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے ایک مہینہ میں تین دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لیے جا سکتے ہیں مگر بہر حال تمام بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر کسی استثنا کے قادیان میں منظم ہو جانا لازمی ہے۔مجلس اطفال الاحمدیہ کا قیام: اطفال الاحمدیہ کی نی تنظیم کے قائم کرنے کا ارشاد حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے اول 15 اپریل 1938ء کو بیت الاقصیٰ قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران بایں الفاظ میں فرمایا: اصل چیز یہ ہے کہ اچھی عادت بھی ہو اور علم بھی ہو مگر یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب عادت کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور علم کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے۔عادت کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا کا زمانہ ہوتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کی ایک شاخ ایسی بھی کھولی جائے جس میں پانچ چھ سال کے بچوں سے لے کر 16-15 سال کی عمر تک کے بچے شامل ہو سکیں یا اگر کوئی اور حد بندی تجویز ہو تو اس کے ماتحت بچوں کو شامل کیا جائے۔بہر حال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہئے اور ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہئیں مگر یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ان بچوں کے نگران نوجوان نہ ہوں بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں۔۔۔۔۔نماز کے بغیر دین کوئی چیز نہیں اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے۔اسی طرح سچ کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے جس قوم میں سچ نہیں اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن کوئی چیز نہیں۔جس قوم میں محنت کی عادت نہیں اس قوم میں سیاست اور تمدن بھی نہیں۔گویا یہ تین معیار ہیں جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی۔ہر مقام کے احمدی نوجوان جہاں خود خدام الاحمدیہ میں شامل ہوں وہاں سات سے پندرہ سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے مجلس اطفال الاحمدیہ قائم کریں۔“ 581