مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 563 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 563

1) اسلام میں اختلافات کا آغاز : (1 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت باریک بینی اور ذہانت سے اس عنوان کا حق ادا کیا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے 26 فروری 1919ء کو اسلامیہ کالج لاہور میں مشہور مؤرخ سید عبدالقادر صاحب ایم۔اے پروفیسر شعبہ تاریخ کی صدارت میں اپنا مذکورہ لیکچر پیش کیا جو بعد میں اہل شوق کے تقاضے پر کتابی صورت میں پیش کیا گیا۔اس لیکچر کی علمی حیثیت اور تاریخی اہمیت سے متعلق پروفیسر مذکورہ نے ان الفاظ میں اپنے صدارتی خطاب میں ارشاد فرمایا: فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانه مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شد بُدھ ہے اور میں دعوئی سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان ہے۔اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مؤرخ ہیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کے فتنہ کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے نہیں گزرا ہو گا۔2 اسلام کا اقتصادی نظام: (پیش لفظ کتاب مذکور ) دنیا کے امن و امان اور تعمیر و ترقی میں اقتصادی و معاشی حالت کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔آج کی ترقی یافتہ ریاستیں اس دعوے کی منہ بولتی دلیل ہیں مگر ان کی اقتصادی ترقی نے ان کی روحانی حالت کو از بس بگاڑ دیا ہے۔ان حالات کو دیکھ کر بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اقتصادی حالات کے سنورنے سے انسان صرف مادی طور پر ترقی کر سکتا ہے اور اس کے لئے وہ یورپ اور اشترا کی ملکوں اور امریکہ وغیرہ کی مثال پیش کرتے ہیں مگر ایسے حالات میں قرآن نے جو اقتصادی نظام پیش کیا ہے،ا ہل عالم کو اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہ مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں میں مساوی ترقی کے مواقع پیش کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کی اسی ضرورت کے تحت 1945ء میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے زیر انتظام لاہور میں ایک علمی لیکچر اسلام کا اقتصادی نظام کے عنوان پر دیا۔اس لیکچر کو سننے کے لئے احمدی احباب کے علاوہ ہزاروں کی تعدا میں مسلم اور غیر مسلم معززین تشریف لائے جن کی اکثریت تعلیم یافتہ تھی اور پنجاب یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ خصوصاً اس موقع پر موجود تھے۔اس تقریر کی صدارت ایک ہندو سکالر مسٹر رامچند مچندہ ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ نے کی۔یہ تقریر تقریباً اڑھائی گھنٹے جاری رہی اور تقریر کے دوران حاضرین کے وفورِ شوق کا عالم دیدنی تھا۔صدر جلسہ نے تقریر کے بعد اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سننے کا موقع ملا۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیہ ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں امام جماعت احمدیہ نے بیان فرمائی ہیں۔جماعت احمدیہ اسلام کی پیش کرتی ہے جو اس ملک کے لئے نہایت مفید ہے۔پہلے تو میں یہ سمجھتا تھا اور میری غلطی تھی کہ اسلام اپنے قوانین میں صرف مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے غیر مسلموں کا کائی لحاظ نہیں رکھتا۔مگر آج حضرت امام جماعت دو وہ 563