مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 558 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 558

میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، وکیل، صحافی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معززین سر فہرست تھے جو اپنے تمام اخراجات خود براداشت کرتے ، کھانے خود پکاتے ، میلوں پیدل چلتے ، کئی کئی وقت فاقے کرتے۔چلچلاتی دھوپ میں سر پر سامان اٹھا کر سفر کرتے اور دین کی خدمت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے۔ہندوؤں نے ایمان پر ڈٹی رہنے والی مائی جمیا کی فصل کاٹنے سے انکار کر دیا تو یہی بی اے اور ایم اے وکیل اور ڈاکٹر جنہوں نے کبھی زرعی آلات کو ہاتھ نہ لگایا تھا درانتیاں لے کر فصل کاٹنے لگے۔ہاتھ زخمی کر لئے پاؤں چھلنی کر لئے مگر دین کی غیرت کا حق ادا کر دیا۔تزکیہ نفس اسے ہی تو کہتے ہیں۔( الفضل 14 جون 2006ء) چنانچہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی، صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔اے، ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم، شیخ یوسف علی رہا صاحب بی۔اے اور دوسرے مجاہدین نے تیز اور چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کیا۔بعض اوقات کھانا تو الگ ان کو پانی بھی نہ مل سکا۔کھانے کے وقت یا تو اپنا بچا کھچا باسی کھانا کھاتے یا بھونے ہوئے دانے کھا کر پانی پی لیتے اور اگر سامان میسر آسکتا تو آٹے میں نمک ڈال کر اپنے ہاتھوں روٹی پکا کر کھا لیتے۔رات کو جہاں جگہ ملتی سو جاتے۔ملکانوں نے ان کی خاطر تواضع دودھ سے کرنا چاہی مگر انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا۔بعض رؤسا نے مبلغین کے بستر اور سامان کے لئے مزدور دینا چاہے لیکن یہ جانباز سپاہی اپنا سامان اٹھائے پیدل سفر کرتے رہے اور ایک گاؤں میں کام ختم ہونے پر اس بات کی پروا کئے بغیر کہ کیا وقت ہے یا دوسرا گاؤں کتنے فاصلے پر ہے فوراً آگے روانہ ہو جاتے۔انہوں نے بعض اوقات اندھیری راتوں میں ایسے تنگ اور پر خطر راستوں سے سفر کیا جہاں جنگلی سور اور بھیڑیئے بکثرت پائے جاتے تھے۔یہ مجاہد ملکانوں پر پانی تک کا بوجھ نہ ڈالتے اور یہ کہتے کہ آپ لوگوں کو دین سکھانے کے لئے ہمارے آدمی آئیں گے جو آپ سے کچھ نہ لیں گے بلکہ اپنا خرچ بھی آپ برداشت کریں گے۔یہ لوگ چونکہ اپنے مولوی صاحبان کی شکم پروریوں کی وجہ سے بدظن ہو چکے تھے۔اس لئے ان کے نزدیک یہ بات بڑی حیرت انگیز تھی کہ ایسے خادم دین بھی موجود ہیں جو رضا کارانہ طور پر اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کا بیڑا اُٹھائے ہوئے ہیں۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ نے نہ صرف تین دن کے اندر اندر ضلع ایٹہ کے اکثر دیہات کا دورہ مکمل کرلیا اور ہر گاؤں سے متعلق ایسے تفصیلی کوائف مہیا کئے گویا مدت سے ان دیہات میں ان کی آمدو رفت تھی۔ہوتی ( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 355 - 354) تزکیہ نفس اور تطہیر قلب جیسے عناصر انسانی زندگی پر اس رنگ میں اثر انداز ہوتے ہیں کہ طرز معاشرت میں تبدیلی واقع ہے چنانچہ ایک غیر احمدی دوست علامہ نیاز فتح پوری صاحب اس خاصہ کا یوں ذکر کرتے ہیں: " آپ کی اور احمدی جماعت کی زندگی میں کتنا نمایاں فرق ہے۔آپ کے ہاں زندگی کا تصور ہے منتشر انفرادی تشخص کا اور ان کے یہاں مرکزی ہیئت اجتماعی کا۔آپ کی اجتماعیت افراد میں بٹ کر هَبَاءً مَنْشُورًا ہو چکی ہے اور ان کے یہاں تمام افراد چمٹ کر صرف ایک حَبْلُ الْمَتِین سے وابستہ نظر آتے ہیں آپ کا شیرازہ بکھر گیا ہے اور وہ اس بکھرے ہوئے شیرازہ کے اوراق کو اکٹھے کر رہے ہیں۔ان کی سادہ معاشرت ان کی سادہ زندگی، ان کا جذبہ خلوص و صداقت، احساس ایثار قربانی، پاس عہد، پابندی شریعت اور سب سے زیادہ ان کی عملی استقامت اور شدائد کے مقابلہ میں فلسفیانہ صبر و ضبط۔یہ ہیں احمدی جماعت کے بنیادی عناصر اور اجزا جن پر ان کے قصر اجتماعیت کی تعمیر ہوئی ہے۔(فیضان مهدی دوران از مکرم عبدالرحمن مبشر صاحب۔صفحہ 219) 558