مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 52 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 52

اور سعید رضی اللہ عنہ بن العاص سے اس کی نقلیں کرا کے تمام ملک میں اس کی اشاعت کی اور ان تمام مختلف مصاحف کو جنہیں لوگوں نے بطور خود مختلف املاؤں سے لکھا تھا، صفحہ ہستی سے معدوم کر دیا۔“ محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (سیر الصحابہ جلد 1 - صفحہ 231 تا232) الصحابہ میں لکھا ہے: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ساتھ اتنی محبت و شیفتگی تھی کہ اپنے محبوب آقا کی فقیرانہ اور زاہدانہ زندگی دیکھ کر بے قرار رہتے تھے اور جب موقع ملا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف پیش کرتے۔ایک دفعہ چار دن تک آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر و فاقہ سے بسر کیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اسی وقت بہت سا سامان خورد و نوش اور تین سو درہم لا کر بطور نذرانہ پیش کئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام اس قدر ملحوظ تھا کہ جس ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی، پھر اس کو نجاست یا محل نجاست سے مس نہ ہونے دیا۔اہل بیعت نبوی اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا خاص طور سے پاس و خیال تھا۔چنانچہ اپنے عہد خلافت میں جب اصحاب وظائف کے رمضان کے روزینے مقرر کئے تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا روزینہ سب سے دونا مقرر کیا۔“ محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سیر الصحابہ جلد 1 - صفحہ 239 تا240) فتنہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کرنے آئے۔جب وہ شام کو واپس جانے لگے تو مدینہ میں وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ شام میں چلیں۔وہاں آپ (رضی اللہ عنہ ) تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: معاویہ! میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا۔“ حفاظت منصب خلافت تاریخ الخلفا میں لکھا ہے کہ: (تفسیر کبیر جلد نمبر 6 - صفحہ 379) ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے عثمان (رضی اللہ عنہ )! خداوند تعالیٰ تمہیں ایک قمیص (خلافت) عنایت فرمائے گا جب منافق اس کو اُتارنے کی کوشش کریں تو تم اس کو مت اُتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو! اسی بنا پر آپ رضی اللہ عنہ نے، جس روز آپ رضی اللہ عنہ محصور ہوئے تھے یہ فرمایا تھا کہ اس کے بارے میں مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا چنانچہ اس پر میں قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔“ 52