مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 502 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 502

502 66 بات یوں ہو۔" مجلس شوری میں عورتوں کی نمائندگی: رپورٹ مجلس مشاورت 1922 صفحه 16-17 ) سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سوانح فضل عمر جلد دوم میں تحریر فرماتے ہیں: ابتدا میں مستورات کی آرا معلوم کرنے کا کوئی علیحدہ انتظام نہ تھا لیکن 1930ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حسب ذیل طریق پر اہم مسائل پر عورتوں کی آرا معلوم کرنے کا طریق معتین فرمایا: عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جہاں جہاں لجنہ اماء اللہ قائم ہیں وہ اپنی لجنہ رجسٹرڈ کرائیں یعنی میرے دفتر سے اپنی لجنہ کی منظوری حاصل کرلیں۔ان کو جنہیں میری اجازت سے منظور کیا جائے گا مجلس مشاورت کا ایجنڈا بھیج دیا جائے وہ رائے لکھ کر پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس بھیج دیں۔میں جب ان امور پر فیصلہ کرنے لگوں گا تو ان آراء کو بھی مدِ نظر رکھ لیا کروں گا۔اس طرح عورتوں اور مردوں کے جمع ہونے کا جھگڑا بھی پیدا نہ ہو گا اور مجھے بھی پتہ لگ جائے گا کہ عورتیں مشورہ دینے میں کہاں تک مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ان کی رائیں فیصلہ کرتے وقت مجلس میں سنا دی جائیں گی۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ، صفحہ 127 ) 1941ء تک اسی طریق پر عمل ہو تا رہا۔لیکن جب آپ نے اس طریق میں کئی نقص محسوس کئے تو 1941ء کی مجلس شوریٰ میں اس میں تبدیلی کرتے ہوئے حسب ذیل فیصلہ فرمایا: ایک ضروری بات میں لجنہ کی نمائندگی کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں ہر سال لجنہ سے رائے لی جاتی ہے اور ہر سال اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور کبھی اسے مجلس شوریٰ میں پیش نہیں کیا جاتا۔میری تجویز یہ ہے کہ آئندہ مجلس شوریٰ میں ایک لجنہ اماء اللہ کا نمائندہ بھی ہوا کرے۔اور بیرونی جماعتوں کی لجنات سے جو تجاویز پرائیوٹ سیکرٹری کو موصول ہوں وہ سب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری لجنہ کے اس نمائندے کو پہنچا دیا کرے۔اس نمائندے کا یہ فرض ہوگا کہ وہ ہر موقع پر لجنات کی رائے بھی پیش کرتا چلا جائے اور بتائے کہ فلاں لجنہ کی اس کے متعلق یہ رائے ہے اور فلاں کی یہ رائے۔اس طرح نہ صرف ان کی آرا کا پتہ لگ جائے گا بلکہ ممکن ہے کہ بعض دفعہ کوئی لطیف اور مفید بات بھی معلوم ہو جائے۔اور اگر اس طریق کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوا تو بھی کم سے کم اس طرح یہ پتہ لگتا رہے گا کہ ہماری جماعت کی مستورات کی دینی ترقی کا کیا حال ہے جب ان کی آرا پڑھی جائیں گی تو اس وقت معلوم ہوگا کہ بعض دفعہ تو ان کی رائے نہایت ہی مضحکہ خیز ہوگی۔جس ہم یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کو حالات کا بالکل علم نہیں اور بعض دفعہ ان کی رائے بہت اعلیٰ ہو گی جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کا علم زیادہ پختہ ہے۔تو ان کی آرا پڑھے جانے پر ہماری جماعت کے دوست ساتھ ساتھ یہ موازنہ بھی کرتے چلے جائیں گے کہ ہماری عورتوں کی دماغی اور دینی ترقی کس طرح ہو رہی ہے اور بعض دفعہ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر کہ عورتوں کی فلاں معاملہ میں جو ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے یہ رائے ہے وہ ان کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے بدل لیں اور انہی کے حق میں فیصلہ کردیں۔“ ( رپورٹ مجلس مشاورت 1941ء صفحه 117-118 از سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 194 تا 196 )