مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 486
حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی طرف سے رسوائے زمانہ مولوی، منظور احمد چنیوٹی کو مباہلہ کا چیلنج: مولوی منظور احمد چنیوٹی جماعت احمدیہ کے معاونین اور مخالفین میں سے ایک نام تھا جو شیطان کے کامل ظل کی صورت میں احمدیت کی مخالف کو جزو فطرت اور مقصد حیات بنائے ہوئے تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مباہلہ کا اعلان جب کیا تو مولوی صاحب نے کہا:۔”اگلے سال 15 ستمبر تک میں تو ہوں گا قادیانی جماعت زندہ نہیں رہے گی۔“ (روزنانہ جنگ لاہور 17 اکتوبر 1988ء) ہے یا اس کے جواب میں امام جماعت احمدیہ نے بڑے جلال اور تحدی کے ساتھ فرمایا: انشاء اللہ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔منظور چنیوٹی اگر زندہ رہا تو اس کو ایک ملک ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو اور کثرت سے ایسے ملک کھائی دیں گے جہاں احمدیت از سرِ نو زندہ ہوئی احمدیت نئی شان کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہی ہے۔پس ایک اعلان وہ ہے جو منظور چنیوٹی نے کیا تھا اور ایک یہ اعلان ہے جو میں آپ کے سامنے کر رہا ہوں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ منظور چنیوٹی سچا ہواور میں جھوٹا نکلوں، منظور چنیوٹی جن خیالات اور عقائد کا قائل ہے وہ سچے ثابت ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو عقائد ہمیں عطا فرمائے ہیں، آپ اور میں جن کے علمبردار ہیں یہ عقائد جھوٹے ثابت ہوں اس لئے یہ شخص بڑی شوخیاں دکھاتا رہا اور جگہ جگہ بھاگتا رہا اب اس کی فرار کی راہ اس کے کام نہیں آئے گی اور خدا کی تقدیر اس کے فرار کی ہر راہ بند کر دے گی اور اس کی ذلت اور رُسوائی دیکھنا آپ کے مقدر میں لکھا گیا ہے۔انشاء الله 66 (خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1988ء) اس کے دو ماہ بعد 16 اکتوبر 1988 کی کانفرنس ختم نبوت ربوہ میں مولوی منظور نے اپنے اس کھلے بیان سے انحراف کیا اور اعلان کیا کہ : 66 ”مرزا طاہر احمد کے ختم ہو جانے کی بات کی تھی ساری قادیانی جماعت کی نہیں۔“ (جنگ لاہور 30 جنوری 1989) حضرت خلیفۃ امسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مولوی کے اس کھلم کھلا جھوٹ کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: تو بالکل جھوٹ ہے۔”اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ 15 ستمبر سے پہلے لازماً مر جاؤں گا۔۔ہے؟ جن کے مباہلہ کی بنا جھوٹ پر ہو وہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے پھر اور کون سا مباہلہ باقی مولوی منظور چنیوٹی نے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے مباہلہ کو تسلیم کرنے کا اقرار کیا تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر مولوی چنیوٹی زندہ رہا تو ذلتوں کے لئے ہی زندہ رہے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مباہلے کو تسلیم کرنے کے بعد اسے ہر بار ناکامیوں اور نامرادیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ذلتوں کا ہار اس کی گردن کا طوق بنا رہا جس کا ہر منکا 486