مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 482 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 482

وو ہر مولوی دنیا کے پردے پر جہاں کہیں ہو، ہندوستان کا تو خاص طور پر پیش نظر ہے مسیح کو اُتار دے آسمان سے، جو چاہے کر کے۔“ پھر فرمایا: " پھر خیال آیا کہ مسیح تو بہت پاک وجود ہے اسے کہاں اتار سکتے ہیں دجال کے گدھے کو ہی پیدا کردے۔اگر صدی کے ختم ہونے سے پہلے دجال کا گدھا ہی بنا کے کھا دو جس کے آئے بغیر مسیح نے نہیں آنا تو پھر ایک ایک کروڑ روپیہ ہر مولوی کو ملے گا اور یہ دعوئی میرا آج بھی قائم ہے اب تو اس قسم کے چیلنجوں کے وقت آگئے ہیں مسیح کو اتارو اور جھگڑا ختم کرو۔میں اور میری ساری جماعت پہلے ہی مسیح کو مانے ہوئے ہیں ایک اور مسیح کو ماننے میں کیا حرج ہے۔“ پھر فرمایا: " آنے والا تو آ چکا ہے اب کو ئی نہیں آئے گا۔اب دلیلوں کے وقت نہیں رہے بلکہ ایسے آسمانی نشانات کے وقت ہیں جو متقیوں پر الہام اور کشوف کی صورت میں اُتریں گے فرمایا یہ چینج ہے جو ہندوستان کے اس مناظرے سے میرے دل میں پیدا ہوا اور اسے پاکستان کے مولویوں پر اور ان بڑے بڑے دعویداروں پر جو مسیح کے مردے کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ کہتا ہوں: شوق سے کرو اس کو آسمان سے اتار کر دکھاؤ جماعت احمدیہ کے خزانے ختم نہیں ہوں گے اور تمہیں کروڑ کروڑ کی تھیلیاں عطا کرتے جائیں گے مگر تمہارے نصیب میں آسمان سے ایک کوڑی کا بھی فیض نہیں۔“ ،، هفت روزه بدر قادیان 5 تا 12 جنوری 1995ء) خدا کے پیارے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس چیلنج کو ہمیشہ کی طرح کسی بھی مولوی کو قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی اور اس طرح وہ اربوں روپے سے بھی محروم ہو گئے اور حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا کہ: ”وہ آسمان سے ایک کوڑی کا بھی فیض نہ پاسکیں گے۔“ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی طرف سے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کو مباہلہ کا " چینج: ضیاء الحق نے ملک پاکستان میں احمدیوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے حق سے کلیۂ محروم کر دیا اور مذہبی منافرت اور لاقانونیت کو ایک ناجائز اور جعلی قانونی جواز فراہم کیا اور مذہبی اختلافات کے شعلوں کو ہوا دے کر کچھ اس طرح بھڑکایا کہ احمدیوں کے خلاف مشتعل ہجوم لوٹ مار اور اور قتل و غارت کے نشے میں دھت گلی کوچوں میں نکل آیا اور پاکستان کی گلیوں میں احمدیوں کا ناحق خون بہایا جانے لگا، احمدیوں کی مساجد اور قبروں کی بے حرمتی کی گئی اور احمدیوں کی نعشوں کو قبرستان سے نکال کر صرف اس لئے باہر پھینک دیا گیا کہ وہاں پرفون مسلمانوں کے آرام اور چین میں خلل پڑتا ہے، اپنے ہی ملک میں احمدیوں پر ظ کے پہاڑ توڑے جانے لگے تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ضیاء الحق کو متنبہ کیا کہ وہ احمدیوں پر مظالم ڈھالنے سے باز آ جائے لیکن ضیاء الحق کے غیظ و غضب اور تشدد میں کمی نہ آئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ضیاء الحق کو خدا کے عذاب سے ڈراتے ہوئے ان الفاظ میں مباہلہ کا چیلنج دیا: ”اے قادرو توانا، عالم الغيب والشهادة خدا! ہم تیری جبروت اور تیری عظمت اور تیرے وقار اور تیرے جلال کی 482