مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 450 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 450

(الفضل 17 مارچ 1923ء) اس رپورٹ پر حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے شدھی کا وسیع پیمانے پر مقابلہ کرنے کیلئے ایک زبر دست سکیم تیار کی۔چنانچہ 9 مارچ 1923 ء کو خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ ارتداد کی وسعت بیان کرتے اور جماعت کو اپنی سکیم کے ایک حصہ سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: اس حالت کو دیکھ کر میں نے تجویز کیا ہے اور میرا اس وقت یہی اندازہ ہے کہ ہمیں اس وقت ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا طریق یہ ہو کہ اس ڈیڑھ سو کو تمیں تمھیں کی جماعت پر تقسیم کر دیا جائے اور اس کے چار حصے میں ہیں کے بنائے جائیں اور تمہیں آدمیوں کو ریزرو (reserve) رکھا جائے کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو، کوئی آدمی بیمار ہو جائے یا کوئی اور سانحہ ہو تو ہم ان میں سے بھیج سکیں۔اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو یہ اقرار کر کے فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہو گی جو میں اب بیان کر دوں گا۔پہلے بعض لوگوں کی درخواستیں آئی ہیں میں نے ان کو جواب نہیں دیا وہ اب مجھ لیں گویا ان کی درخواستیں واپس کر دی گئی ہیں ان شرائط کے سننے کے بعد جو درخواستیں آئیں گی وہ منظور کی جائیں گی: اول یہ کہ ہم ان کو پیسہ بھی خرچ کیلئے نہ دیں گے، اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہو گا۔جو لوگ اس طرز پر زندگی وقف کرنے اور اس علاقے میں جانے کیلئے تیار ہوں وہ درخواستیں دیں۔ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہاں کا خرچ، کرایہ وغیرہ وہ سب خود برداشت کریں گے، چاہیے وہ پیدل سفر کریں یا سواری پر یہ ان کو اختیار ہے مگر ہم ان کے خرچ کا ایک پیسہ نہیں دیں گے سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم خود انتظام کرنے کیلئے بھیجیں گے ان کو بھی جو ہم کرایہ دیں گے وہ تیسرے درجہ کا ہو گا چاہے وہ کسی درجہ اور اس کی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ان لوگوں کے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے، اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہو گا تو ہم دیں گے۔“ سیاب مدافعت اور اس کا اقرار: الفضل 15 مارچ 1923ء صفحہ 5) الحمد للہ کہ احمدی مبلغوں کی کوششیں بارآور ہوئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے شدھی کی رو میں زبردست کمی آ گئی اور شدھ کئے ہوئے خاندان بڑی کثرت سے دوبارہ اسلام میں آنے لگے، شورش انگیز اور تشدد آمیز کارروائیوں اور چیرہ دستیوں اور مخالف طاقتوں کی زبردست شورش کے باوجود ہر طرف اسلام کی فتوحات کے دروازے کھل گئے، ریاست بھرت پور کے کئی گاؤں شدھی سے تائب ہو کر پھر سے اسلامی لشکر میں آشامل ہوئے۔آنور کا قصبہ جس کے قریب سری کرشن جی کی پیدائش ہوئی اکثر و بیشتر مسلمان ہو گیا، اسہار کے ایک بڑے حصے نے اسلام قبول کر لیا۔مجاہدین احمدیت کے ہاتھوں شدھی تحریک کو جس عبرتناک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اس کا اقرار ہندوؤں اور سکھوں دونوں کی طرف سے برملا کیا گیا۔چنانچہ لالہ سنت رام بی اے جات پات توڑک منڈل لاہور نے بیان دیا: الفاظ بہت کڑے ہیں اور سخت مایوسی سے بھرے ہوئے ہیں مگر یہ سچائی ہے چاہے کڑوی ہو۔بہت سے بھائی پوچھیں گے ہم اخباروں میں روز شدھی اور اچھوت ادھار کی خبریں پڑھتے ہیں۔پھر تم کہتے ہو کہ شدھی اور 450