مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 434 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 434

و پڑی۔ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت جماعت پر ایذا رسانی کے دروازے کھول دیئے گئے ظلم و کی انتہا کر دی گئی، احمدیوں کی دکانیں لوٹی اور جلائی گئیں مشتعل ہجوم ان کی مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ان پر حملہ آور ہوئے اور مساجد کے اندر داخل ہو کر انہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، مسٹر بھٹو نے سرکاری محکموں میں احمدی ملازمین کے خلاف امتیاز کی جو مہم شروع کی تھی اب اس میں شدت پیدا ہو گئی ، معصوم اور بے گناہ احمدیوں کو جن کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ احمدی تھے اور کسی قانونی یا اخلاقی کو تاہی یا جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، بھرے ہوئے ہجوم اور کرائے کے غنڈوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، ان کو سرعام زد و کوب کیا گیا، انہیں قتل کیا گیا، اس سارے عمل کو پولیس خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہی، نہ ہی اس نے جرم کے ارتکاب کو روکا اور نہ ہی کسی کاروائی کی ضرورت سمجھی، دُور جانے کی ضرورت نہیں ماضی قریب میں بھی ایسا ہی تشدد اور اسی قسم کی ایذا رسانی ایک اور مذہبی اقلیت کے خلاف بھی روا رکھی گئی تھی۔سب جانتے ہیں کہ دنیا کو اس کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی تھی۔دو (حضرت) خلیفہ اسیح نے مظلوم احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: جارحیت کا جواب جارحیت سے نہ دو۔اپنی حفاظت ضرور کرو لیکن حملہ کرنے والوں پر حملہ مت کرو نہ جسمانی طور پر اور نہ ہی زبان سے۔یاد رکھو کہ (حضرت) مسیح موعود (علیہ السلام) نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ تمہیں ستایا جائے گا اور تم پر ستم توڑے جائیں گے، گند اُچھالا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ انجام کار جماعت احمدیہ ہی فتح یاب ہو گی۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 275,274) اپنے امام کے حکم کے مطابق احمدیوں نے تو صبر کا دامن نہ چھوڑا لیکن ضیاء اپنے ظلم وستم میں بڑھتا چلا گیا یہ سب سے بڑا قدم اس نے اپریل 1984 ء میں اٹھایا جب آرڈینینس نافذ کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جمعرات کا دن تھا اور 26 اپریل 1984ء کی تاریخ جب حکومت پاکستان کے گزٹ (Gazett) میں صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کی طرف سے مارشل (martial Law) کا بدنام زمانہ آرڈینینس نمبر ہیں لا 20 Ordinance Number جاری کیا گیا تا کہ احمدیوں کو خواہ مخواہ قادیان کی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری جماعت سے ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکے۔آرڈنینس (Ordinance) کے الفاظ یہ تھے: ”ہر گاہ کے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قانون میں ایسی ترمیم کی جائے جس سے احمدیوں کو خواہ وہ قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری جماعت سے انہیں ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے روکا جا سکے اور ہر گاہ صدر پاکستان کو اطمینان ہے کہ ایسے وجوہ موجود ہیں جن کی وجہ سے اس بارے میں فوری اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔لہذا پانچ جولائی 1977 ء کے اعلان اور ان اختیارات کے ماتحت جو صدر پاکستان کو اس اعلان کے ذریعے دو حاصل ہیں۔صدر پاکستان مندرجہ ذیل فرمان کا اجرا اور نفاذ کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں: مختصر عنوان اور آغاز : -1 یہ آرڈنینس (Ordinance) قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں (امتناع و - 434