مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 433 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 433

ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ كَلْبٌ يَمُوتُ عَلى كَلب۔یعنی وہ کتا ہے اور کتنے کے عدد پر مرے گا جو باون (52) سال پر دلالت کر رہے ہیں۔اس یعنی اس کی عمر باون(52) سال سے تجاوز نہیں کرے گی، جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اسی سال کے اندر اندر ہی ملک بقا ہو گا۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 190) خلافت احمدیہ کے خلاف چوتھی مخالفانہ تحریک اور اس کا انجام : خلافت احمدیہ کے خلاف چوتھی تحریک جنرل ضیاء الحق نے چلائی اور اس نے خلافت اور جماعت احمدیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی یہ سزا دی کہ رہتی دنیا تک اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ضیاء الحق کا اقتدار پر قبضہ: ضیاء الحق کے اقتدار پر قبضہ کرنے سے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے آئن ایڈم سن صاحب (Iean Adam Son) طے لکھتے ہیں: جولائی 1977ء میں مسٹر بھٹو کی پیپلز پارٹی خاصی اکثریت کے ساتھ ایک بار پھر بر سر اقتدار آ گئی تھی۔مخالف سیاسی جماعتوں کو شکایت تھی کہ الیکشن (Election) کے دوران دھاندلی ہوئی ہے، وہ سڑکوں پر نکل آئی تھیں، ہنگامے ہو رہے تھے، مخالف جماعتوں اور مسٹر بھٹو کے درمیان گفت و شنید جاری تھی۔بالآخر باہم ایک معاہدہ پا گیا جس کے مطابق مسٹر بھٹو اس بات پر آمادہ ہو گئے تھے کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی کچھ نشستیں خالی چھوڑ دے۔اس طرح اس شکایت کا ازالہ بھی مقصود تھا کہ الیکشن میں تصرف ہوا ہے۔معاہدے کو ضبط تحریر میں لایا جا رہا تھا اور جلد اس کا اعلان ہونے والا تھا۔صبح کے چھ بج رہے تھے جنرل ضیاء الحق کمانڈر انچیف بری افواج پاکستان نے اچانک اقتدار پر قبضہ کر لیا اور مسٹر بھٹو ان کے وزیروں اور نو جماعتی حزب اختلاف کے تمام لیڈروں کو گرفتا ر کر لیا گیا۔جنرل ضیاء الحق اور پانچوں علاقائی کمانڈروں نے مارشل لا (Martial Law) کا اعلان کر دیا۔جنرل ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ نئے انتخابات نوے دن کے اندر اندر کروادئیے جائیں گے۔شروع شروع میں تو لوگ پڑ امید تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ جنرل ضیاء سچ بول رہا ہے اور حقیقتا چاہتا ہے کہ ملک سے رشوت ستانی اور بد دیانتی کا خاتمہ ہو اور پاکستان جلد سے جلد پارلیمانی جمہوریت کی طرف واپس آ جائے۔ایک مرد خدا - مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 273,272) ضیاء نے لوگوں سے انتخاب کا وعدہ تو کیا لیکن پورا کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دیتا گیا اور اصل مقصد سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اس نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک محاذ کھول دیا۔ہر طرح دق کونے کی کوشش کی۔حضرت خلیفۃ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان دنوں کو تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایسے مطلق العنان آمروں کو جانا پہچانا طریقہ واردات یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ وہ عوام کی توجہ ان کے حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لئے کسی مذہبی یا نسلی اقلیت کو چن لیتے ہیں اور تعصب کی چنگاریوں کو ہوا دے کر ان اقلیتوں کے خلاف مخالفت کی آگ بھڑکا دیتے ہیں یہی کچھ ضیاء نے بھی کیا۔ضیاء کی نظر انتخاب جماعت احمدیہ پر 433