مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 432 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 432

کرنے کی کوشش کرتے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے اور ان کے نااہل ہم جماعت کامیاب قرار دے دیئے جاتے۔اس صورتحال سے جماعت احمدیہ کے معاندین کا جی خوش ہو گیا۔یہ الگ بات ہے کہ اس ظالمانہ طریق کارنے انصاف کر گلا گھونٹ کر رکھ دیا۔جب احمدی نوجوانوں پر اپنے وطن میں انصاف کے دروازے بند کر دیئے گئے تو چار و ناچار انہیں بیرونی ممالک کی طرف رُخ کرنا پڑا۔اپنے وطن میں اپنے خلاف اس منفی سلوک سے زچ ہو کر وہ بادل ناخواستہ برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، امریکہ اور دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔یہ نوجوان صحت مند بھی تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی۔دراصل ایسے نوجوان ہی کسی ملک کا حقیقی سرمایہ ہوا کرتے ہیں لیکن اب یہی نوجوان اپنی دینی اور مذہبی قدروں کو سینوں سے لگائے ترک وطن کے خطرات مول لینے پر مجبور ہو گئے۔ان کے جانے سے جہاں پاکستان اس افرادی دولت سے محروم ہو گیا وہاں دوسرے ممالک کو اس سے فائدہ بھی پہنچا۔جماعت احمدیہ کو شکایت تھی اور یہ ایک جائز اور وزنی شکایت تھی کہ قومی اسمبلی کی ساری کاروائی جس کی بنا پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا بالکل خفیہ اور بصیغہ راز ہوئی اور پریس (Press) اور پلک (Public) کو اس کی تفصیلات سے سراسر بے خبر رکھا گیا۔جماعت احمدیہ نے بار بار مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی کی پوری کارروائی اور بحث اور دلائل کی تفصیل شائع کی جائے لیکن بھٹو حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا اور جوں جوں یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا بھٹو حکومت اسی شدت سے انکار پر انکار کرتی چلی گئی۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب۔صفحہ 153 تا 182) ان ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مسٹر بھٹو کی حکومت بتدریج تیزی کے ساتھ غیر مستحکم ہوتی چلی گئی۔ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا تھا۔انہوں نے بڑی مایوسی اور پریشانی کے عالم میں ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے کہ اقتدار کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے اور سیاسی مصلحت کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب بھی موقع ملا اپنے پرانے ساتھی چھوڑ کر نئے ساتھی تلاش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔جولائی 1977 ء میں جنرل ضیاء الحق نے جسے مسٹر بھٹو نے سینئر افسروں کو نظر انداز کر کے پاکستان کی بری افواج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا تھا ایک فوجی انقلاب کے ذریعے مسٹر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پھر دو سال بعد دنیا بھر کے احتجاج کے باوجود اسی جنرل ضیاء الحق نے مسٹر بھٹو کو ایک سیاسی مخالف کے والد کے قتل کے الزام میں ماخوذ کر کے مقدمہ عدالت کے سپرد کر دیا۔عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی، اس فیصلے کے خلاف عالم گیر صدائے احتجاج بلند ہوئی اور اکناف عالم میں احتجاج کا ایک شور برپا ہو گیا۔عام تاثر یہی تھا کہ سزائے موت کا عدالتی فیصلہ مبنی بر انصاف نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور سیاسی مصلحتوں اور ضرورتوں کا مرہون منت ہے تاہم جنرل ضیاء الحق اس کانٹے کو اپنے راستے سے ہٹانے کا کتنا ہی خواہش مند کیوں نہ ہو وہ مسٹر بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کی جرات کبھی نہیں کر سکے گا۔یہ کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس سزا پر عمل درآمد بھی ہو گا۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 179) لیکن اس کے ساتھ خدا کی تقدیر کچھ اور ہی ظاہر کرنا چاہتی تھی جو دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن بعد میں کھل گیا۔4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور خدا کے مسیح کی پیشگوئی پوری ہوئی كَلْبٌ يَمُوتُ عَلَى كَلْبِ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 432